جنگی نعروں سے رومانوی تھرلرز تک: بالی وڈ میں کیا چل رہا ہے؟

فروری ختم ہونے کو ہے مگر کسی سپر ہٹ بالی وڈ فلم کا ذکر نہیں سنا۔ کیا سینیما سو رہا ہے یا ہماری سماعتیں زنگ آلود ہو چکی ہیں؟

موبائل ہاتھ میں ہو تو صرف کہانی دیکھنے سینیما کون جائے؟ لاتعداد ویب سائٹس فری سروس دے رہی ہیں۔ کمرے کی لائٹس آف کرو، موبائل کی سکرین آن اور ایک ہی نشست میں فاسٹ فارورڈ کر کے تین تین فلمیں سائیڈ پہ کر دو۔

سینیما تبھی لوگوں کو کھینچتا ہے جب اس پر ایسا تماشا ہو جو موبائل سکرین پر ممکن نہیں، جیسے جنگ، دھماکے وغیرہ یا پھر ایسی کہانی جو جذبات اور ذہن دونوں کو چھو لے۔ رواں برس بھی کچھ مختلف نہیں، ایک طرف جنگی ڈرامے سب سے زیادہ کمائی کر رہے ہیں، دوسری طرف سماجی اور نفسیاتی کہانیاں ناظرین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔

رواں برس کی اب تک سب سے بڑی ہٹ اگر کسی فلم کو کہا جا سکتا ہے تو وہ ’بارڈر ٹو‘ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریلیز کے پہلے ہی ہفتے میں کئی شہروں کے سینیما گھروں کے باہر صبح کے شو سے پہلے قطاریں لگ گئیں۔ کچھ لوگ صرف اس لیے ٹکٹ خرید رہے تھے کہ بڑے پردے پر ٹینک اور جنگ دیکھنے کا جو سواد ہے وہ موبائل پر تو نہیں۔

1997 میں آنے والی فلم ’بارڈر‘ ہم نے نہیں دیکھی لیکن اس کا تذکرہ بہت سنا۔ وہی جس میں جاوید اختر کا گیت تھا، ’سندیسے آتے ہیں۔‘ نئی فلم اسی کا سیکوئل ہے۔ نئی فلم میں یہ گیت بھی دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بارڈر ٹو‘ محض فلم نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے۔ سینیما ہال میں جیسے ہی ’سندیسے آتے ہیں‘ گونجتا ہے، تالیوں کی بوچھاڑ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ جذباتی کنکشن ہے جس نے اسے 2026 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنا دیا۔

یہاں ایک دلچسپ حقیقت بھی ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں جب بھی ملک میں سیاسی یا سرحدی کشیدگی بڑھی، جنگی فلموں نے زیادہ بزنس کیا۔ گویا باکس آفس صرف تفریح نہیں، بلکہ قومی نفسیات کا آئینہ بھی ہے۔

محبت اب معصوم نہیں رہی، بہت جلد ٹارگٹ تک پہنچتی ہے اور ٹارگٹ ہے بھی کلیئر۔ لیکن کیا لوگ اب بھی رومانس دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ رومانس اب نہیں بکتا تو ’او رومیو‘ آپ کی رائے بدل سکتی ہے۔ محبت اور اس سے جڑے شک، جرم اور انتقام کے جذبات کی یہ کہانی وشال نے لکھی اور وہی اس کے ڈائریکٹر ہیں۔

ممبئی کے ایک ملٹی پلیکس میں نوجوانوں کا ہجوم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فلم کس طبقے کو اپیل کر رہی ہے۔ کالج کے طلبہ ہیں، یونیورسٹی کی طالبات ہیں، کچھ ادھیڑ عمر اور بابے بھی ٹکٹ خریدنے کے لیے لائن میں لگے ہیں۔ نوجوان کہتے ہیں، ’ہمیں ریئلسٹک سٹوریز چاہییں، فلمی خواب نہیں۔‘

اسی لیے فلم کا ہیرو مکمل ’فرشتہ‘ نہیں اور ولن مکمل ’شیطان‘ نہیں۔ کردار گرے شیڈز میں ہیں، جیسے حقیقی زندگی میں ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ فلم بڑے سکون اور خاموشی سے سو کروڑ کلب میں شامل ہو گئی۔

یہ رجحان بتاتا ہے کہ جنریشن زی اب ساده لو سٹوری نہیں، بلکہ پیچیده جذبات دیکھنا چاہتی ہے۔

دیکھیں اور بتائیں کہ کہاں سے لگتا ہے یہ فلم ہے، ’مردانی تھری‘۔

ایک زمانہ تھا جب ایکشن فلم کا مطلب مرد ہیرو تھا۔ خواتین اور ایکشن؟ کوئی جوڑ نہیں۔ ’مردانی تھری‘ نسوانی طاقت کا اظہار ہے، مگر ساتھ ساتھ مردوں کی طاقت کو ایک گھونسہ بھی۔

ایک سین میں جب خاتون پولیس افسر اکیلی گینگ کا سامنا کرتی ہے، ہال کی چھت سیٹیوں سے بس اڑتے اڑتے بچتی ہے۔ کبھی یہی سیٹیاں صرف مرد ہیروز کے لیے بجتی تھیں۔ عورت محض ٹھمکے لگاتی یا مظلوم گھریلو سی بیوی نما خاتون ہوتی تھی۔

فلم کا ایک اہم پہلو بچوں کی سمگلنگ ہے۔ ایسے سنگین مسئلے پر سینیما میں بہت عمدہ طریقے سے بات ہونا خوش آئند ہے۔ اس لیے یہ صرف تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی بیان بھی ہے۔ خواتین ناظرین خاص طور پر اس فلم سے جڑت محسوس کرتی ہوں گی، کم از کم میرا یہی خیال ہے۔

بہرحال یہ بالی وڈ کا مثبت رجحان ہے کہ عورت اب کہانی کا مرکز بن رہی ہے، محض سجاوٹ نہیں۔

ان کے علاوہ ’80‘ اور ’دو دیوانے شہر میں‘ جیسی چند چند کروڑ کی چھوٹی چھوٹی فلمیں ہیں۔ ان فلموں نے زیادہ بزنس تو نہیں کیا، مگر یہ اس بات کی علامت ہیں کہ بالی وڈ اب صرف بلاک بسٹر فارمولے پر انحصار نہیں کر رہا۔

کورٹ روم ڈراما ہو یا کم بجٹ رومانوی فلم، یہ وہ مواد ہے جو شاید آن لائن انٹرٹینمنٹ چینلز پر زیادہ چلتا ہے، مگر تھیٹر میں بھی ایک مخصوص آڈیئنس کھینچ لاتا ہے۔

دیکھتے ہیں عید کی چھٹیوں پر کون کون سی فلم سینیما گھروں کی زینت بنتی ہے۔ ایسے مواقع پر خاندان کے خاندان اکٹھے سینیما جاتے ہیں، دوست گروپس بناتے ہیں اور فلم ایک سماجی سرگرمی بن جاتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ بالی وڈ دو سمتوں میں بیک وقت ڈھلوان کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک طرف بڑے بجٹ کی فلمیں ہیں جن کے موضوعات جنگی اور حب الوطنی پر مبنی ہیں، یہ بلاک بسٹرز ہیں، لاکھوں کروڑوں لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف چھوٹے بجٹ کے ’بامقصد‘ ڈرامے اور تھرلرز ہیں، یعنی تماشا بھی ہے اور کچھ منفرد یا اچھوتا بھی۔

بہت سے ناقدین کے نزدیک یہ توازن اس لیے پیدا ہوا ہے کیونکہ اب ناظرین کے پاس انتخاب ہے۔ اگر تھیئٹر میں پسند نہ آئے تو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ اس لیے فلم ساز کو واقعی اچھی کہانی دینی پڑتی ہے۔

اس اچھی کہانی کے چکر میں پتہ نہیں سینیما کدھر ہے؟

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *