امریکہ، ایران مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے، عمانی وزیر خارجہ

علاقائی ثالث عمان کے وزیر خارجہ نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کار رواں ہفتے جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔

اپنے اکاؤنٹ سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بدر البوسعیدی نے کہا کہ بات چیت ’معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب اضافی کوشش کرنے کے مثبت جذبے کے ساتھ‘ دوبارہ شروع ہوگی۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کے بڑے پیمانے پر جمع ہونے کے باوجود، جمعرات کو امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہونے پر ایرانی حکام نے نئے تنازعے کو روکنے کے لیے معاہدے کی جانب پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔

اتوار کو سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت سے قبل ایک ممکنہ معاہدے کی تفصیلات تیار کی جا رہی ہیں، جب کہ اس سے قبل واشنگٹن کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کھلے عام حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تہران نے ابھی تک ’ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟‘

گذشتہ سال دسمبر کے آخر اور جنوری کے آغاز میں ایران میں ملک گیر احتجاجی تحریک ایک ایسے کریک ڈاؤن کا سبب بنی تھی جس کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور اس کے بعد سے امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں میں اضافہ ہوا۔

اتوار کو ایرانی طلبہ نے ایک بار پھر حکومت کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کیے، جن میں مذہبی قیادت کے ناقدین کو پکڑے جانے کی صورت میں گرفتاری یا اس سے بھی بدتر نتائج کا خطرہ تھا۔

خطے میں امریکی مفادات کو ممکنہ اہداف کے طور پر اشارہ کرتے ہوئے، عراقچی نے کہا کہ ’اگر امریکہ ہم پر حملہ کرتا ہے، تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔‘

اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ سفارتی حل کا ایک اچھا موقع موجود ہے۔‘

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی طرح کہا کہ گذشتہ بات چیت سے ’حوصلہ افزا اشارے ملے۔‘

جنیوا میں بات چیت کے حالیہ دور کے بعد، ایران نے کہا کہ وہ ایک ایسے معاہدے کے لیے مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جس سے فوجی کارروائی کو روکا جا سکے۔

عراقچی نے سی بی ایس کو بتایا، ‘میرا خیال ہے کہ جب ہم ملیں گے، جو غالباً اس جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ ہوگا، تو ہم ان عوامل پر کام کر سکتے ہیں اور ایک اچھا مسودہ تیار کر کے جلد معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار بحری جہازوں کے ساتھ دیگر جنگی طیارے اور بحری جہاز بھیجے ہیں، اور فوجی مداخلت کی اپنی دھمکیوں کو تقویت دینے کے لیے خطے میں اپنے فضائی دفاع کو بھی مضبوط کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے اعلیٰ مذاکرات کار  سٹیو وٹکوف نے ہفتے کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر یہ سوال کر رہے تھے کہ ایران نے ابھی تک دباؤ کے سامنے گھٹنے کیوں نہیں ٹیکے؟

انہوں نے کہا کہ ‘وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ انہوں نے اب تک… میں ہتھیار ڈالنے کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن انہوں نے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟’

‘وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے اور یہ کیوں نہیں کہا کہ، ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں ہتھیار نہیں چاہیے، لہٰذا ہم یہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟’

یورینیم کی افزودگی کے موضوع پر، عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ایران کو ’اپنے لیے فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔‘

جنگ کے خدشات 

گذشتہ سال سفارت کاری کا دور ایران پر اسرائیل کی بمباری مہم کے باعث منقطع ہو گیا تھا۔

اس نے جون میں 12 روزہ تنازعے کو جنم دیا جس میں امریکہ بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے ساتھ مختصر طور پر شامل ہوا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے باوجود، ایرانیوں میں ایک نئے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تہران کے رہائشی حامد نے بتایا، ’میں گولیاں کھا کر بھی رات کو ٹھیک سے نہیں سو پاتا۔‘

46 سالہ آئی ٹی ٹیکنیشن مینا احمدوند کا ماننا ہے کہ ‘اس مرحلے پر، ایران اور امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے درمیان جنگ ناگزیر ہے۔‘

’میں نہیں چاہتی کہ جنگ ہو، لیکن کسی کو زمینی حقائق سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔‘

ان خدشات نے سویڈن، سربیا، پولینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی بیرونی ممالک کو اپنے شہریوں پر زور دینے پر مجبور کیا ہے کہ وہ ایران چھوڑ دیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *