40 سال قبل چرنوبل کی تابکاری کیا پاکستان بھی پہنچی تھی؟

40 سال قبل اس وقت کے سویت یونین کے چرنوبل جوہری پلانٹ میں حادثے کی خبر پاکستان میں بھی کئی دنوں تک شہ سرخیوں میں چھائی رہی۔ 

تو کیا تقریباً ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور اس پلانٹ سے تابکاری اسلام آباد تک پہنچی تھی؟ آئیں دیکھیں۔

26 اپریل، 1986 کو رونما ہونے والے اس تاریخ کے بدترین جوہری حادثے کے وقت 19 سال کی عمر میں اس سے جڑی دو باتیں آج تک یاد ہیں۔

ایک جوہری تابکاری کے پاکستان پہنچنے کے بارے میں لوگوں میں خوف اور خدشات اور دوسرا موسم میں اچانک تبدیلی کو اس کی وجہ قرار دیا جانا۔

اس سال اپریل میں اچانک بارشوں سے موسم سرد ہوا تو چرنوبل کو اس کی وجہ قرار دیا جانے لگا۔

موسم کے بارے میں تو کوئی ٹھوس تحقیق یا بات سامنے نہیں آئی لیکن زیادہ خطرناک دوسرے پہلو تابکاری کی موجودگی کی تفتیش ضرور ہوئی تھی۔

چرنوبل نے ماحول میں ریڈیو ایکٹیویٹی کی بڑی مقدار خارج کی جو ہواؤں کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک تک پھیل گئی۔ 

دھماکے سے ہیروشیما ایٹمی بم کے مقابلے میں تقریباً 400 گنا زیادہ تابکاری خارج ہوئی۔ لاکھوں لوگ بیمار ہوئے اور اس خطے کے کبھی صاف ستھرے جنگلات اور زرعی زمینیں اب بھی آلودہ ہیں۔

اس بات کا جائزہ لینے اسلام آباد کے قریب نیلور میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH)  نے، جو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی تحقیق کی قومی لیبارٹری ہے، چرنوبل سے نکلنے والی تازہ فشن کی نگرانی میں اضافہ کیا۔

اس سلسلے میں بلندی پر اسلام آباد میں ریڈیو ایکٹیویٹی کی پیمائش کے لیے ذرات کے نمونے لیے گئے۔ ہوا میں معلق ریڈیو ایکٹو ذرات زمین پر بیٹھنے میں کافی وقت لیتے ہیں۔

لیکن اس کا آسان حل طیاروں کے اترنے کے فوراً بعد ان کی باڈی سے نمونے لینا ہے۔ 12 سے 25 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں سے ماسوائے جعمہ ہر روز یہ نمونے لیے گئے۔

ان تجربات سے معلوم ہوا کہ تابکار بادل نے اسلام آباد کے اوپر تقریباً دو ماہ (مئی اور جون) گزارے اور تیسرے مہینے جولائی میں مقدار میں کمی آئی جس کے بعد کوئی سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔

یہ رپورٹ نومبر 1987 کو جاری کی گئی اور اب بھی جوہری نگرانی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

اس وقت کے یوکرین کے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ  میں ایک تباہ کن دھماکہ اور آگ لگی تھی۔

آر بی ایم کے ری ایکٹر کے ڈیزائن میں ایک مہلک خامی اور حفاظتی ٹیسٹ کے دوران آپریٹر کی غلطی کے نتیجے میں بجلی میں اضافہ، بھاپ کے بڑے دھماکے اور جزوی کور میلٹ ڈاؤن ہوا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے یورپ بھر میں زبردست تابکار آلودگی ہوئی اور ہزاروں افراد کو انخلا کرنا پڑا تھا۔

اقوام متحدہ کی سائنسی کمیٹی برائے ایٹمی تابکاری کے مطابق چرنوبل حادثے میں 64 افراد مارے گئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق حادثے سے ہونے والی اموات کی ممکنہ تعداد چار ہزار تک ہے۔

چرنوبل اور بعد میں جاپانی میں جوہری پلانٹ کے حادثے کے بعد پاکستان میں سماجی کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جاری جوہری پروگراموں کو روکے جبکہ ملک کی موجودہ جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے کسی بھی منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان کا موقف تھا کہ پاکستان کی موجودہ کل بجلی کی فراہمی میں جوہری حصہ بہت محدود ہے جبکہ اس کے خطرات اس کی افادیت سے کہیں زیادہ ہیں۔ 

نیوکلیئر صلاحیت کے قیام اور دیکھ بھال کی انتہائی زیادہ لاگت اور مکمل طور پر ریاستی فنڈنگ پر منحصر ہونے سے اس پر عمومی اتفاق رائے ہے کہ نیوکلیئر پلانٹس ایک مہنگا آپشن ہیں، جو بجلی کی پیداوار کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں فی ڈالر کم بجلی فراہم کرتے ہیں۔

آپ کو چرنوبل کے بارے میں کچھ یاد ہے تو ضرور آگاہ کریں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *