انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا موجودہ کاروباری ماڈل، جس کے تحت زیادہ تر آمدن ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں تقسیم کی جاتی ہے، نیدرلینڈز جیسے ایسوسی ایٹ ارکان کے لیے نقصان دہ ہے۔
انڈین اخبار دی پائنیر کے مطابق یہ بات نیدرلینڈز بورڈ کے رکن راشد شاہ نے کہی۔
اندازاً آئی سی سی کی سالانہ آمدنی کا تقریباً 40 فی صد، یعنی لگ بھگ 231 ملین ڈالر، 2024 سے 2027 کے دورانیے میں انڈیا کو ملیں گے جبکہ عالمی ادارے کی بڑی آمدنی میڈیا حقوق کے باعث کرکٹ کی طاقتور قوم انڈیا سے ہی آتی ہے۔
تاہم شاہ نے بی سی سی آئی کی کامیابیوں اور کرکٹ کی ترقی اور عالمی پھیلاؤ میں اس کے غیر معمولی کردار کو بھی سراہا۔ 2024 تا 2027 کے عرصے میں اندازاً 600 ملین ڈالر سالانہ آمدنی میں سے قریب 533 ملین ڈالر بارہ فل ارکان میں تقسیم ہوں گے، جبکہ تقریباً 67 ملین ڈالر ایسوسی ایٹ ٹیموں کو ملیں گے۔
راشد شاہ کا، جو دو دہائیاں قبل نیدرلینڈز منتقل ہونے سے پہلے جموں و کشمیر میں طویل عرصہ کرکٹ کھیلتے رہے، کہنا تھا کہ آئی سی سی کا آمدنی کی تقسیم کا ماڈل چھوٹے ممالک میں کھیل کے فروغ میں مددگار ثابت نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا، ’ہم ظاہر ہے ایک ایسوسی ایٹ کرکٹ ملک ہیں۔ ہمیں بڑی ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ مالی ماڈل ہمارے لیے پائیدار نہیں ہیں۔ آئی سی سی کا تجارتی ڈھانچہ ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں وہاں سے فنڈز کا صرف ایک چھوٹا حصہ ملتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’ہمیں مالی وسائل کے لیے اپنے ماڈل خود بنانے پڑتے ہیں تاکہ کرکٹ کی ترقی کا عمل جاری رکھا جا سکے۔ لیکن انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنا ہمارے لیے بہت بڑا حوصلہ افزا موقع تھا۔ احمد آباد میں انڈیا کے خلاف میچ کھیلنا، جسے سٹیڈیم میں تقریباً 70 ہزار افراد نے دیکھا اور دنیا بھر میں تقریباً 16 کروڑ ناظرین نے ٹی وی پر دیکھا، ہمارے لیے بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔‘
چیلنجز کے باوجود راشد شاہ کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں نیدرلینڈز میں کرکٹ نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ اگرچہ مجموعی تعداد اب بھی محدود ہے اور تقریباً 8 ہزار افراد اس کھیل سے وابستہ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیت راشد شاہ نے بتایا کہ نیدرلینڈز کرکٹ بورڈ کے این سی بی کے پاس 2030 تک کے لیے واضح منصوبہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’میرا دل اب وہیں ہے۔ میں گذشتہ 26 برس سے ہالینڈ میں مقیم ہوں۔ میں نے تقریباً 13 سے 14 سال وہاں کرکٹ کھیلی۔ ان برسوں میں ڈچ کرکٹ نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ہم گذشتہ دس سال میں تقریباً تمام ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔‘
ڈچ خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی پہلی بار 2026 کے موسم گرما میں انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے تاریخ رقم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برسوں میں ’ہم نے ایک واضح سفر کا آغاز کیا ہے۔ ہمارے پاس مشن اور وژن موجود ہے۔ ہم کرکٹ کے ڈھانچے کی مضبوطی پر کام کر رہے ہیں تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کا دائرہ وسیع ہو۔ ہم اوپر کی سطح پر رول ماڈلز فراہم کر رہے ہیں اور نچلی سطح پر مضبوط بنیاد قائم کر رہے ہیں تاکہ ایک مستحکم سلسلہ تشکیل پائے۔‘
انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کرکٹ کے حوالے سے راشد شاہ نے کہا کہ ان کے دل اور وابستگی نیدرلینڈز کے ساتھ ہیں، مگر وہ سری نگر میں اپنی جڑوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں جموں و کشمیر میں طویل عرصہ کرکٹ کھیلنے والے شاہ اس سیزن میں رنجی ٹرافی کے فائنل تک ٹیم کی پہلی رسائی پر بے حد فخر محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’اگر میں تقریباً 27 سال پہلے کے کشمیر سے آج کا موازنہ کروں تو اُس وقت کھیل کا ڈھانچہ، سہولیات اور احتساب کا نظام کمزور تھا، اور جن حالات سے ہم گزر رہے تھے ان میں زیادہ مواقع اور زیادہ کرکٹرز موجود نہیں تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ آج جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کی کاوشوں سے ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کھیل کشمیر کے ہر ضلع تک پھیل چکا ہے۔
’انہوں نے باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لانے اور مضبوط نظام قائم کرنے میں قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ رنجی ٹرافی کے فائنل تک پہنچنا بذاتِ خود ایک شاندار کامیابی ہے۔‘
رائل ڈچ کرکٹ ایسوسی ایشن (KNCB) نے راشد شاہ کو بورڈ ممبر برائے مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن کے طور پر جولائی 2025 میں نامزد کیا تھا۔
راشد شاہ 1999 میں ہالینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اس کے علاوہ، راشد ایک ICT کمپنی Tachyon Security کے سی ای او اور شریک مالک ہیں، جسے انہوں نے ایک کاروباری پارٹنر کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا۔
راشد نے ڈچ کرکٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپٹیور نے 2007 اور 2011 کے آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران نیدرلینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم کو سپانسر کیا۔ ابھی حال ہی میں، Tachyon Security نے 2023 میں KNCB ویمنز سپر لیگ کو سپانسر کیا۔
2002 سے VRA کے ایک رکن راشد پہلے VRA بورڈ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور فی الحال اس کے سپروائزری بورڈ میں بیٹھے ہیں۔ خود ایک سابق کھلاڑی، وہ نیدرلینڈز میں کرکٹ کی ترقی اور ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔
وہ ایمسٹرڈیم کرکٹ اکیڈمی اور ڈچ کرکٹ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن دونوں کے شریک بانی ہیں۔
