آئندہ ہفتے کے عالمی خبروں کے منظرنامے پر مختلف سرکاری تقاریب کا غلبہ ہو گا، جو کبھی خوشی اور کبھی سنجیدگی کا رنگ لیے ہوں گی، جہاں یونین جیک اور سٹارز اینڈ سٹرائپس ایک ساتھ لہرا رہے ہوں گے۔
اگر آخری لمحے میں کوئی رکاوٹ نہ آئی تو بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ منانے کے لیے طویل عرصے سے طے شدہ اور باریک بینی سے ترتیب دیے گئے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔
برطانیہ میں اس شاہی جوڑے کے دورے کے وقت اور خود دورے کے حوالے سے باقی ماندہ اختلافات تقریباً ختم ہو جائیں گے، جب رسومات اور پروٹوکول غالب آ جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس چار روزہ تقریب کی ٹی وی کشش کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اتنا ہی شاندار اور رنگین بنانے کی کوشش کریں گے جتنا ان کا گذشتہ سال برطانیہ کا ’بے مثال دوسرا سرکاری دورہ‘ تھا۔
اس وقت برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت مختلف تھی۔ اُس وقت برطانیہ اور وزیراعظم کیئر سٹارمر، ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے جھٹکوں سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹتے دکھائی دیتے تھے، کم از کم دیگر عالمی رہنماؤں کے مقابلے میں۔
اس میں خوشامد کے عناصر اور بریگزٹ کے بعد محصولات کے حوالے سے لچک بھی شامل تھی۔
اس کے بعد سے وینزویلا کے صدر کی بے دخلی، گرین لینڈ پر ٹرمپ کے دعوے اور اب ایران کے ساتھ جنگ نے ایک مختلف فضا پیدا کر دی ہے، جس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا بادشاہ کا دورہ مناسب بھی ہے یا نہیں۔
اس کے باوجود دورے کا جاری رہنا ان لوگوں کی کامیابی ہے، جو مزید کشیدگی سے بچنے کے حامی تھے، یا جو یہ سمجھتے تھے کہ بادشاہ کو بھیجنا ایک دانش مندانہ سفارتی قدم ہو سکتا ہے، جو تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد دے گا۔
سٹارمر کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ٹرمپ نے کہا ہے کہ بادشاہ کی آمد ’یقیناً ‘ تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے۔
تاہم اس کے لیے ضروری ہو سکتا ہے کہ برطانوی حکومت میں ٹرمپ کے سخت ناقدین خاموش رہیں تاکہ دورے کے دوران جب چارلس اور کمیلا واشنگٹن، نیویارک، ورجینیا اور برمودا کے درمیان سفر کریں تو تاج اور ریاست کے درمیان تضاد زیادہ نمایاں نہ ہو۔
اس سے بھی زیادہ مشکل یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹرمپ کوئی ایسا غیر متوقع قدم نہ اٹھائیں جو بادشاہ کے لیے باعث شرمندگی بنے۔
تاہم بادشاہ کے لیے ان کی واضح پسندیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ شاید کم ہو۔
اس دورے کے بارے میں میری تشویش زیادہ تر موجودہ حالات سے نہیں بلکہ برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کے ماضی اور مستقبل سے متعلق ہے اور اس بات سے کہ برطانیہ ایک ایسے تاریخی واقعے کی سرکاری سطح پر یاد منانے جا رہا ہے جو 1776 کے اعلانِ آزادی اور پھر 1783 کے امن معاہدے کے بعد ایک نوخیز امریکہ کی بڑی سیاسی اور عسکری فتح تھی۔
یہ برطانوی بادشاہت کے لیے مسلسل شکستوں کا سلسلہ تھا۔
یہ درست ہے کہ اس سالگرہ کو منانا ایک مثبت قدم بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک ایسا اشارہ کہ ڈھائی صدی پرانے اختلافات اب ماضی کا حصہ ہیں اور برطانیہ اپنی شکست کو تسلیم کر چکا ہے، بشرطیکہ اس تعلق کو ’خصوصی‘ کہا جاتا رہے۔
یعنی مختصراً یہ کہ انجام اچھا ہو تو سب کچھ اچھا سمجھا جاتا ہے، الفاظ کے معمولی سے ردوبدل کے ساتھ۔لیکن یہاں ایک نہایت اہم چیز کھو رہی ہے۔
اس اخبار کی واشنگٹن میں سابق نمائندہ اور چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک امریکی شہری کی شریک حیات ہونے کے ناطے، میری رائے ہے کہ بحر اوقیانوس کے دونوں جانب موجود اختلافات اور خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان فرق کی وسعت اور شدت کو عموماً کم سمجھا جاتا ہے اور یہ کہ امریکی اعلانِ آزادی، جو آج کے امریکہ میں اب بھی بہت کچھ کی بنیاد ہے، نے راستوں کی ایک واضح علیحدگی کی نشاندہی کی تھی اور بڑی حد تک اب بھی کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید یہ کہ میں یہ مؤقف اختیار کروں گی کہ یہ معروف اور کثرت سے دہرایا جانے والا جملہ کہ امریکہ اور برطانیہ ’ایک مشترکہ زبان کے باوجود تقسیم شدہ دو قومیں ہیں‘ دراصل حقیقت کو کم بیان کرتا ہے۔
اختلاف صرف زبان تک محدود نہیں۔ اگرچہ آزادی، جمہوریت اور اچھے طرزِ حکمرانی جیسے بنیادی تصورات بھی آج کے امریکہ اور برطانیہ میں بعض اوقات نمایاں طور پر مختلف معنی اختیار کر لیتے ہیں۔
ریاست کی رسائی اور افراد و شہریوں کے لیے اس کی ذمہ داریوں، دولت اور غربت، سیاست زدہ عدلیہ، مذہب کے کردار اور دیگر کئی معاملات پر بھی بنیادی نوعیت کے اختلافات موجود ہیں۔
مثال کے طور پر ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کو ڈیٹا کے تحفظ یا رازداری سے متعلق معاہدے طے کرنے میں اتنی دشواری پیش آئی ہے کہ دونوں فریق بالکل مختلف ابتدائی مؤقف سے آغاز کرتے ہیں اور برطانیہ کے بارے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وہ عموماً یورپی ممالک کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
میں یہ بھی اضافہ کروں گی کہ ’آزاد سرزمین‘ میں رہنے کے حوالے سے میرے لیے سب سے بڑا حیران کن پہلو سماجی ہم آہنگی کی وہ سطح تھی جس کی توقع بھی کی جاتی ہے اور تقاضا بھی، جسے ایک مہاجر معاشرے میں ایک خوبی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کی صدارت کو غیر معمولی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر انہوں نے بنیادی اختلافات کو مزید نمایاں کیا ہے، چاہے وہ ان کی تنہائی پسندی اور مداخلت پسندی کا امتزاج ہو یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی۔
ان کے جانے کے بعد یہ اختلافات کچھ کم ہو سکتے ہیں، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
لہٰذا یہ آئندہ سرکاری دورہ، اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود، جس میں 11 ستمبر کی یادگار تقاریب اور خوراکی تحفظ و ایپلاچین ثقافت سے متعلق تقریبات بھی شامل ہیں، غالباً بادشاہ کی ذاتی کشش اور ٹرمپ کی شاہی نظام سے دلچسپی پر انحصار کرے گا۔
تاہم جب یہ سب ختم ہو جائے گا تو شاید ’خصوصی تعلقات‘ میں موجود ’خصوصی‘ اور مشترکہ اقدار کے دعوے، دونوں کو خیرباد کہہ دیا جائے اور ان کی جگہ ایک زیادہ دیانت دارانہ جائزہ لے لے، جس میں ہمارے حقیقی اختلافات کے ساتھ ساتھ اس جامع برطانوی سیاسی، عسکری اور معاشی شکست کو بھی تسلیم کیا جائے، جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔
