بکریاں بیچ کر بینجو خریدنے والے بلوچ موسیقار کی دنیا بھر میں دھوم

کراچی آرٹس کونسل میں ورلڈ کلچر فیسٹیول کے دوران سات نومبر کی شب استاد نور بخش کی پرفارمنس جاری تھی۔ محفل میں نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جیسے ہی استاد نور بخش سٹیج پر پہنچے تو شرکا نے خوشی سے آوازیں لگانا شروع کر دیں۔

انہوں نے بینجو ہاتھ میں لیا اور اپنی انگلیاں اس کی تاروں پر رکھیں تو ساز سے نکلنے والی دھنوں نے محفل کا رنگ بدل دیا۔ کوئی ہاتھ فضا میں بلند کرکے جھومنے لگا، کوئی روایتی بلوچی رقص کرنے لگا تو کوئی اپنی جگہ کھڑے ہو کر دھنوں پر رقص کرتا دکھائی دیا۔

بینجو کی آواز پر محفل میں موجود لوگوں کا جوش دیکھنے کے لائق تھا۔ استاد نور بخش کی انگلیاں جب تک ساز کی تاروں پر حرکت کرتی رہیں، شرکا ان کی دھنوں کے سحر میں جھومتے رہے۔

اس محفل میں موجود نوجوان سیفی بھی استاد نور بخش کو سننے آئے تھے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استاد نور بخش کے ہاتھوں میں جادو ہے، بالکل جادو۔ جب وہ اپنی انگلیاں بینجو پر چلاتے ہیں تو دل ناچنے لگتا ہے۔

لیکن استاد نور بخش کے فن اور شہرت کا سفر کسی بڑے شہر یا موسیقی کے ادارے سے شروع نہیں ہوا بلکہ بلوچستان کے پہاڑوں اور جنگلوں سے شروع ہوا، جہاں وہ بچپن میں بکریاں اور اونٹ چرایا کرتے تھے۔

دو بکریاں فروخت کرکے خریدا گیا پہلا بینجو

استاد نور بخش نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے موسیقی کا شوق تھا۔ وہ بکریاں اور اونٹ چراتے تھے جب انہوں نے پہلی مرتبہ بینجو کی آواز سنی اور اس ساز سے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق بلوچستان کے استاد خدا بخش بینجو بنایا کرتے تھے۔ اس ساز کی آواز انہیں اتنی پسند آئی کہ انہوں نے بھی بینجو سیکھنے اور بجانے کا فیصلہ کر لیا۔

استاد نور بخش نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 12 سال کی عمر میں بینجو بجانا شروع کیا۔ ان کے استاد خدا بخش انہیں مختلف راگ اور دھنیں سکھاتے تھے اور بتاتے تھے کہ کون سا راگ کس طرح بجایا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے والد سے بینجو خریدنے کی فرمائش کی تو والد نے دو بکریاں فروخت کرکے 110 روپے میں ان کے لیے بینجو خرید دیا۔

استاد نور بخش کے بقول اس وقت بینجو 110 روپے کا ملتا تھا، جب کہ اب اس کی قیمت چار سے پانچ لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ بینجو ملنے کے بعد انہوں نے پورے بلوچستان میں اسے بجایا اور جہاں بھی گئے، اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

زبان مختلف، مگر موسیقی کا اظہار ایک

استاد نور بخش کی موسیقی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ خود کو صرف بلوچی دھنوں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ مختلف زبانوں کی موسیقی بینجو پر پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سندھی، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور عربی سمیت مختلف زبانوں کی دھنیں اپنے ساز پر نکالتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان تمام زبانوں کی بول چال نہیں آتی، لیکن اپنی انگلیوں کے ذریعے بینجو پر مختلف زبانوں کی دھنیں پیش کر لیتے ہیں۔

استاد نور بخش کے مطابق وہ جرمنی، فرانس، پرتگال اور لندن سمیت مختلف مقامات پر پرفارم کر چکے ہیں۔ ان کے لیے یہ تجربہ خوشی کا باعث ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بھی ان کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

’رنگا مچار‘ کیسے مقبول ہوئی؟

استاد نور بخش کی موسیقی کے حوالے سے ان کی مشہور بلوچی غزل ’رنگا مچار‘ کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ غزل بلوچستان کے معروف شاعر استاد فیض محمد بلوچ نے لکھی تھی اور اسے شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہے کی خوشی کے موقعے پر گایا جاتا تھا۔

استاد نور بخش نے بتایا کہ حیدرآباد میں ایک پروگرام کے دوران شام کو نیند سے اٹھے تو ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اس غزل کو محفل میں موجود شرکا کے سامنے پیش کیا جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول وہ خود گانا نہیں گا سکتے تھے، اس لیے انہوں نے بینجو بجانا شروع کیا اور ساتھ ہی شرکا کو بتایا کہ یہ استاد فیض محمد بلوچ کی غزل ہے۔

انہوں نے بینجو بجاتے ہوئے ’رنگا مچار، رنگا مچار‘ کے بول پیش کیے، جسے محفل میں موجود لوگوں نے پسند کیا اور بعد میں یہ غزل مقبول ہوتی چلی گئی۔

’استاد محفل اٹھاتے ہیں، میں صرف ساتھ دیتا ہوں‘

استاد نور بخش کی پرفارمنس میں بینجو کے ساتھ تنبورے کی آواز بھی شامل ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ تنبورہ بجانے والے دوشمبے صابر گزشتہ پانچ برس سے ان کے ہم سفر ہیں۔

دوشمبے صابر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ استاد نور بخش کے ساتھ تنبورہ بجاتے ہیں، جب کہ استاد بینجو پر دھنیں پیش کرتے ہیں۔

ان کے بقول: ’ہر چیز جوڑی کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔ استاد بینجو بجاتے ہیں اور میں تنبورہ۔ میں صرف استاد کو لے دیتا ہوں، باقی محفل کو استاد اٹھاتے ہیں۔‘

دوشمبے نے بتایا کہ انہوں نے تنبورہ بجانا اپنے والد سے سیکھا اور گزشتہ پانچ برس سے استاد نور بخش کے ساتھ پرفارم کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق وہ بھی استاد نور بخش کے ہمراہ یورپ، امریکہ اور لندن سمیت مختلف مقامات پر جا چکے ہیں۔

استاد نور بخش کے لیے بینجو کی دھنیں بجانے کا سفر ایک ذاتی شوق سے شروع ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہی شوق ان کی پہچان بن گیا۔ بلوچستان کے مقامی ماحول میں شروع ہونے والی ان کی موسیقی آج مختلف ملکوں کے سامعین تک پہنچ چکی ہے۔

ورلڈ کلچر فیسٹیول کی اس محفل میں جب استاد نور بخش کے بینجو کی دھنوں پر نوجوان اور خواتین جھوم رہے تھے تو اس منظر میں ان کے بچپن کے اس شوق کی جھلک بھی دکھائی دے رہی تھی، جسے پورا کرنے کے لیے ان کے والد نے دو بکریاں فروخت کرکے 110 روپے کا بینجو خرید کر دیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *