گلگت بلتستان کونسل ۔۔ نشتن نہ گفتن صرف برخاستن

 گلگت بلتستان گڈ گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آڈر 2009 اور آڈر 2018 کے تحت جو صوبائی طرز کا سیٹ اپ دیا گیا تھا اس کے تحت یہ دعویٰ تھا کہ اس انتظام سے خطے کے عوام کو ایمپاور کیا جارہا ہے۔

کسی بھی مملکت میں بااختیاری کا بڑا مظہر اس کے مقتدر عوامی ادارے ہوتے ہیں جس میں اسمبلیاں اور سینٹ وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ گلگت بلتستان مملکت خداد کے آئینی دائرہ کار میں شامل نہیں لہذا اس کے لیے علحیدہ ایک انتظامی طریقہ کار وضع کیا گیا جس کے تحت ایک اسمبلی اور کونسل متعارف کرائی گئی ہے۔ 

1947-48 کی جنگ آزادی کے بعد سے لے کر 2009 تک الحاق پاکستان کے باوجود اس خطے کو عوامی خواہشات کے برعکس ایف سی آر اور بعد ازاں مختلف فریم ورک اور وفاقی آڈرز کے تحت چلایا گیا۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گڈ گورننس آرڈر جاری کیا جسے بعد ازاں مسلم لیگ کی حکومت نے اسے 2018 کے آڈر میں تبدیل کیا گوکہ یہ گلگت بلتستان کی قربانی اور عوامی خواہشات کے عین مطابق نہیں ہے لیکن پھر بھی اس آڈر کے تحت ملنے والی صوبائی طرز کی اسمبلی اور کونسل کو کسی حد تک پذیرائی حاصل ہوئی۔

2009 سے لے کر 2026 تک چار بار الیکشن ہوئے اور چوتھی حکومت حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔ گڈ گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آڈرز کے تحت ملنے والی اسمبلی کے ارکان براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ کچھ ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی مخصوص نشستیں بھی موجود ہیں۔ اسمبلی کے لیے قانون سازی کا دائرہ کار بھی متعین اور محدود ہے جبکہ دوسری طرف کونسل میں ارکان کی تعداد پندرہ ہے جس میں چھ رکن گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران منتخب کرتے ہیں جب کہ چھ ممبران کا تقرر وزیر اعظم صوابدیدی اختیارات کے تحت وفاقی وزرا یا ممبران قومی اسمبلی سے کرتا ہے۔

گلگت بلتستان کونسل کا چیرمین وزیر اعظم پاکستان ہوتا یے نیز گورنر گلگت بلتستان وائس چیئرمین علاؤہ ازیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیر امور کشمیر بھی اس کے رکن ہیں۔ اس سیٹ اپ تک پہنچنے کے لیے طویل عوامی اور سیاسی جدوجہد شامل حال رہی ہے تاہم یہ بھی منزل مقصود نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام براہ راست قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جائز نمائندگی چاہتے ہیں۔ سیاسی اور عوامی جہدوجہد کے علاؤہ قانونی جدوجہد بھی ایک بڑی کوشش رہی ہے جس کی ایک مثال سپریم کورٹ آف پاکستان کا گلگت بلتستان سے متعلق نہایت اہم فیصلہ موجود ہے۔

1994 میں حاجی گام سکردو کے ایک کاروباری شخصیت انجینئر غلام مرتضی نے اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ممتاز وکیل وہاب الخیری کے فورم الجہاد ٹرسٹ کے تحت سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن داخل کی تھی۔ اس درخواست کا مدعا یہ تھا کہ چونکہ گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور یہاں کی عوامی نمائندگی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نہیں ہے لہذا خنجراب بارڈر سیمت گلگت بلتستان میں کہیں بھی مقامی لوگوں پر ٹیکس لاگو نہیں ہوسکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں فوزیہ سلیم کی اسی طرح کی ایک اور رٹ پٹیشن کو بھی ساتھ شامل کرکے سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ ’فیڈریشن آف پاکستان اگلے چھ ماہ میں ضروری آئینی ترمیم، آڈر، نوٹیفکیشن اور متعلقہ قانون سازی کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرے تاکہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کے تحت گورننس میں شامل رہیں مزید برآں انہیں آزاد مقتدر عدلیہ تک رسائی بھی حاصل ہو۔‘

یوں متعدد لیگل فریم ورک آڈرز اور بعد ازاں 2009 اور 2018 کے آڈرز کے تحت وفاق پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی طور پر ایمپاور کر رہی ہے۔ کیا ان آڈرز نے گلگت بلتستان کے حقوق کا کچھ تحفظ کیا ہے؟ اس کا جواب مشکل ہے اور الگ بحث کا متقاضی ہے۔

گلگت بلتستان کونسل بنانے کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ یہ کونسل صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گی چونکہ اس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان ہیں نیز چھ  وفاقی کابینہ کے وزرا بھی ممبر ہیں لہذا وفاق کو گلگت بلتستان کے مسائل سے نہ صرف براہ راست آگہی ہوگی بلکہ ان کے حل کے لیے وفاق بروقت قدم اٹھا سکے گا۔

2009 کے دوران جب کونسل پہلی بار قائم ہوئی تھی تو اس کے دائرہ اختیار میں کئی اہم Subjects تھے۔ تاہم گلگت بلتستان اسمبلی کی طرف سے یہ بات اٹھائی گئی کہ صوبائی اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں لہذا کونسل سے کچھ سبجیکٹ صوبائی اسمبلی کو منتقل کردیے گئے۔

2021 میں چوتھی بار کونسل کے ممبران کا انتخاب ہوا اب اس کی مدت بھی 12 نومبر کو ختم ہو رہی ہے لیکن اس بار کچھ انوکھا ہوا ہے۔ گذشتہ ادوار میں کونسل کے اجلاس منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اس دوران کے وزیراعظم بطور چیرمین کونسل کے کئی اجلاس کی صدارت بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن 2021 سے 2026 دورانیہ کی کونسل یعنی موجودہ کونسل کے ساتھ مبینہ طور پر بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ پانچ سال کی مدت پوری کرنے والی اس کونسل کے چیئرمین وزیر اعظم شہباز شریف ہیں مگر طرفہ تماشا دیکھیے کہ کونسل کے پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں مگر ابھی تک چیئرمین کونسل نے ایک اجلاس کی بھی صدارت نہیں کی ہے۔

وزیراعظم نے بطور چیرمین گلگت بلتستان کونسل کا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا ہے یوں گلگت بلتستان کے منتخب کونسل ممبران صرف کاغذ کی حد تک ممبر ہیں۔ ادھر ممبران نے بھی اس ضمن میں کوئی بڑی تگ و دو نہیں کی ہے کہ کوئی اجلاس منعقد ہوں۔ وہ خصوصی طور پر جاکر وزیر اعظم سے ملتے یا کوئی متفقہ قرارداد بھی بھیج دیتے کہ صاحب ادھر کی بھی کوئی خبر لے۔

دوسری طرف نئی معرض وجود میں آنے والی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کونسل کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم نے خصوصی طور پر جا کر شرکت فرمائی کیونکہ وہ اس کونسل کے بھی چیئرمین ہیں۔ کشمیر کونسل کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نے شاید مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ترجیح کا سیاسی اظہار ضرور کیا مگر اسی مسئلے سے زبردستی جوڑ کر رکھا گیا گلگت بلتستان اور اس کی کونسل مسلسل ان کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

عام تاثر ہے کہ گلگت بلتستان گو کہ جغرافیائی اور سماجی لحاظ سے اہم خطہ ہے لیکن اسے کبھی بھی وہ آئینی حق اور سیاسی اہمیت نہیں دی گئی جس کا حق دار یہ خطہ ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کی اسمبلی اور وفاق کا رشتہ بھی نازک ڈور سے بندھا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان میں الیکشن وفاق کے ساتھ منعقد نہیں ہوتا ہے۔ یوں جب گلگت بلتستان میں اسمبلی وجود میں اتی ہے تو اس وقت کی وفاقی حکومت آدھی مدت گزار دیتی ہے۔ اس طرح جب گلگت بلتستان اسمبلی آدھی مدت طے کرتی تو وفاق میں الیکشن کا وقت ہوتا ہے اور ایک نئی حکومت وہاں تخت و تاج سنبھالتی یے۔

ایسے میں اگر وفاق میں کسی اور پارٹی کی حکومت ہو اور گلگت بلتستان میں کسی اور کی تو پھر صوبائی حکومت کی صورت حال ’نہ ہاتھ باگ میں ہے اور نہ پا رکاب میں ہے‘ کی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وفاق کی نئی حکومت بجٹ میں کٹوتی، فنڈ ریلیز کرنے میں جان بوجھ کر دیر اور اسمبلی کے اندر ٹوٹ پھوٹ کے لیے ذریعے اپنے لیے ’ہم خیال‘ اور ’روشن خیال‘ پیدا کرنے کا نیک فریضہ سر انجام دینے لگ جاتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *