سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں: پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے بدھ کو یمن پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

سلامتی کونسل میں 15 ستمبر کو یمن پر ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں پاکستان کی جانب سے سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے فوری کشیدگی میں کمی اور اقوام متحدہ کی قیادت میں سیاسی عمل کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

اپنے خطاب میں پاکستان کے مستقل مندوب نے خبردار کیا کہ بڑھتا ہوا تنازع علاقائی امن و استحکام، بحری جہاز رانی کی آزادی، عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

یمن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سلامتی کونسل کا دوبارہ اجلاس یمن کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کی شدت اور فوری نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔‘

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

’پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اس جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاع، اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنے قومی اثاثوں کو خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جو پہلے ہی چھ ماہ سے جاری امریکہ-ایران جنگ کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ حوثیوں کے تازہ حملوں کے نتیجے میں 13 شہری معمولی سے درمیانے درجے کے زخمی ہوئے، جبکہ 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار نے آبنائے باب المندب اور اس کے اطراف حوثی حملوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ ’سنگین کشیدگی‘ کی صورت حال سے دوچار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیاں بحری سفر کی آزادی اور بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *