اسلام آباد میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج، نیزہ تھامے نور النساء نے میدان مار لیا

اسلام آباد میں گھوڑوں کی ٹاپوں اور نیزوں کی گونج کے درمیان پاکستان ٹورزم کلچر فیسٹیول کے دوسرے روز ہفتے کو نیزہ بازی کے مقابلے منعقد ہوئے، جن میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی 40 ٹیموں نے حصہ لیا۔

میدان میں جہاں مرد گھڑسواروں نے اپنی مہارت دکھائی، وہیں خواتین نے بھی کسی سے پیچھے نہ رہنے کا ثبوت دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والی نور النساء شاہد نے 10 خواتین گھڑسواروں کے درمیان مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

نور النساء کے مطابق گھڑسواری اور نیزہ بازی کا شوق انہیں اپنے والد سے ملا، جنہوں نے نہ صرف یہ کھیل سکھایا بلکہ ہر مرحلے پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

وہ گذشتہ دو سال سے اس کھیل کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور اس دوران روزانہ کئی گھنٹے مشق کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات وہ پانچ سے چھ گھنٹے تک گھڑسواری کی مشق کرتی ہیں۔ 

نور النساء کے مطابق نیزہ بازی میں خواتین کے لیے بھی بہت سے مواقع موجود ہیں اور اس کھیل سے وابستہ خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیسٹیول میں شریک منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے گھڑسوار عبداللہ غزنفری میاں کے لیے نیزہ بازی محض ایک کھیل نہیں بلکہ خاندانی روایت بھی ہے۔

انہوں نے اسے ایک تاریخی جنگی کھیل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی ابتدا جنگی مشقوں سے ہوئی، جب گھڑسوار دشمن فوج کے خیموں کی میخیں نیزے کی مدد سے اکھاڑتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ جنگی مہارت ایک روایتی کھیل میں تبدیل ہوگئی۔

عبداللہ غزنفری میاں کے مطابق ان کے خاندان میں نیزہ بازی کا شوق کئی نسلوں سے چلا آ رہا ہے اور ان کا پاک زمیندارہ ٹینٹ پیگنگ کلب بھی پاکستان کے ابتدائی کلبوں میں شمار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کھیل میں گھوڑے اور گھڑسوار دونوں کی اہمیت ہے، تاہم مقابلے میں گھوڑے کی کارکردگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور گھڑسوار کی مہارت بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

عبداللہ نے اسلام آباد میں ایسے ایونٹس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور عوام کو اس روایتی کھیل سے متعارف ہونے کا موقع ملتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *