سعودی عہدےدار نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کر دی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدےدار نے وال سٹریٹ جرنل کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے جنگ بندی کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر اور ملک کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
I categorically deny the claims published by The Wall Street Journal regarding demands made by this militia. All of this is pure fabrication by the writers or their alleged sources. These militias turned against the Yemeni government, caused famine among the Yemeni people, and dragged Yemen into conflicts and agendas that do not serve Yemen and its people. They attacked commercial vessels in the Red Sea waterways, civilian and economic targets, and rejected all peace efforts. We also remind the writers that Yemen has a recognized government.
— AMB Dr. Rayed Krimly (@Rayedkrimly) November 5, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے کہا کہ اس رپورٹ کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کو اخبار کے لکھاریوں یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، ملک کے عوام کو بھوک اور افلاس میں مبتلا کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں اور یمن کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں دھکیل رہے ہیں جو ملک کے مفادات کے خلاف ہیں۔
رائد کریملی نے حوثی ملیشیا پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر حملے کر رہی ہے، جبکہ امن کی کوششوں کو بھی مسترد کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کی ایک حکومت پہلے ہی موجود ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
