کوئٹہ کی تین بہنوں نے ہوٹلنگ کے مشکل شعبے میں اپنی جگہ کیسے بنائی؟

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تین بہنوں نے ملازمت کے بجائے ہوٹل چلانے کا راستہ اختیار کیا اور مشکلات کے باوجود اپنا کاروبار قائم کر لیا، جہاں اب خواتین سمیت 15 افراد کام کر رہے ہیں۔

غزالہ، شبانہ اور رامین نے اپنے گھر میں پکنے والے کھانوں کی مقبولیت کو جب کاروبار میں بدلنے کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں انہوں نے کوئٹہ کینٹ میں ہوٹل کھولا۔

تاہم وہاں پیش آنے والی مشکلات کے بعد شہر میں نئی برانچ قائم کی۔

 اب ان کا ارادہ کاروبار کو مزید وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ خواتین کو روزگار فراہم کرنے کا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

گھر کے کھانوں سے ہوٹل کھولنے تک کا سفر

تینوں بہنوں میں غزالہ اور شبانہ نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی جبکہ رامین نے ماسٹرز کر رکھا ہے۔

غزالہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی والدہ کے ہاتھ کے بنے کھانے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں میں بہت مقبول تھے، جس کی وجہ سے انہیں ہوٹل کھولنے کا مشورہ ملا۔

ان کے مطابق: ’جب والدہ گھر میں کھانے پکاتی تھیں تو رشتہ دار اور دوسرے لوگ بہت پسند کرتے تھے۔ کھانوں کا معیار دیکھ کر لوگوں نے ہمیں ہوٹل کھولنے کا مشورہ دیا۔‘

غزالہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پیشہ کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنے شوق سے اختیار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بھابھی گذشتہ 35 سال سے بیوٹی پارلر چلا رہی ہیں اور انہیں دیکھ کر تینوں بہنوں میں بھی اپنا کاروبار شروع کرنے کا شوق پیدا ہوا۔

غزالہ کے مطابق بعض لوگوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کاروبار کے لیے لاہور یا کراچی منتقل ہو جائیں، لیکن انہوں نے کوئٹہ میں ہی اپنا ہوٹل کھولنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان کے ماحول میں ہی اپنا کاروبار کریں گے۔‘

ہوٹل کھولا تو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

غزالہ نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کینٹ میں ہوٹل کھولا جہاں کم وقت میں کاروبار کو کامیابی ملی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ان کے مطابق کینٹ میں حالات کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے شہر میں نئی برانچ کھولی۔

غزالہ نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے ہوٹل کھولا تو آس پاس کے بعض ہوٹل مالکان ان کے کاروبار سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے مختلف طریقوں سے انہیں پریشان کرنا شروع کر دیا۔

ان کے بقول اس کی بنیادی وجہ ان کے ہوٹل کی کامیابی تھی۔

غزالہ کا کہنا تھا کہ کینٹ میں قائم کیا گیا پہلا ہوٹل ان کے کاروباری سفر کی بنیاد بنا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ہوٹل کی سب سے مقبول ڈش پائے ہیں جبکہ پلیٹر اور کابلی پلاؤ بھی گاہکوں کی پسندیدہ ڈشوں میں شامل ہیں۔

’ہوٹلنگ مشکل کام ہے لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری‘

تینوں بہنوں میں سے ایک رامین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی لیکن ملازمت کرنے کے بجائے کاروبار کو ترجیح دی۔

ان کے مطابق گھر میں تیار ہونے والے کھانے لوگوں کو پسند تھے اور انہی کی حوصلہ افزائی پر تینوں بہنوں نے ہوٹل کھولنے کا فیصلہ کیا۔

رامین نے کہا کہ ’ہوٹلنگ ایک مشکل کام ہے لیکن ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ ہمیں کافی مشکلات بھی پیش آئیں لیکن ہم بہنوں نے ہمت نہیں ہاری۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان میں مرد بھی موجود ہیں تاہم کاروبار شروع کرنے کا خیال تینوں بہنوں کا اپنا تھا اور انہوں نے اسے عملی شکل دی۔

رامین کے مطابق اس وقت ان کے ہوٹل میں 15 ملازمین کام کر رہے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہوٹل میں کام دوپہر 12 بجے شروع ہوتا ہے اور رات 12 بجے تک جاری رہتا ہے۔

ان کے بقول ہوٹل آنے والے زیادہ تر گاہک خواتین اور خاندان ہوتے ہیں جو یہاں خود کو آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔

مزید خواتین کو روزگار دینے کا ارادہ

رامین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا چاہتی ہیں اور مستقبل میں کوئٹہ شہر میں مزید برانچیں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کے مطابق اس منصوبے کا ایک اہم مقصد زیادہ سے زیادہ خواتین کو کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔

رامین نے دوسری خواتین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ صرف ملازمت تک محدود رہنے کے بجائے کاروبار شروع کرنے پر غور کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ملازمت کے بجائے کاروبار کو ترجیح دی اور اب اپنی بہنوں کے ساتھ اسے آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *