افریقہ ایک تاریک براعظم | Independent Urdu

’یورپ کے سامراجی ملکوں نے ایشیا اور افریقہ میں اپنی کالونیز قائم کرنے کی غرض سے ان ملکوں کے باشندوں کو غیرمہذب، جاہل اور سست کہا، تاکہ ان کے سیاسی اقتدار کو جائز بنایا جائے۔‘

جرمن فلسفی سیہگل (d.1831) نے فلسفہ تاریخ پر لیکچرز دیتے ہوئے یہ دعوٰیٰ کیا کہ صرف یورپ تاریخ رکھتا ہے۔ باقی دوسرے ممالک تاریخ سے محروم ہیں اور افریقہ تو تاریک براعظم ہے۔

 سیہگل کی اس رائے کو یورپ کے دوسرے مورخوں نے بھی تسلیم کیا، جن میں برطانوی مورخ ٹریور ہوپر نے بھی سیہگل کے نظریے کو دہرایا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ یورپی مورخوں کی کم علمی تھی کہ انہیں افریقہ کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔

اس لیے اپنی کم علمی کو انہوں نے افریقہ کو ’تاریک‘ کہہ کر اس کی پردہ پوشی کر لی۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یورپی مورخوں کی تاریخ سے کیا مراد تھی۔ کیا ان کے لیے تاریخ، فتوحات دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنا، ان کے مال و دولت کو لوٹنا اور شکست خوردہ لوگوں کو غلام بنایا یا قتل کرنا ہے؟

اگر تاریخ کی یہ تعریف ہے تو افریقہ یقیناً اس پر پورا نہیں اترتا ہے۔ کیا تاریخی عمل میں شریک ہونے کے لیے یورپی ماڈل کو اختیار کرنا ہو گا۔ جیسا کہ ایک افریقی راہنما مارکَس گوربی نے کہا تھا کہ افریقی براعظم بھی اسی وقت عظیم اور طاقتور ہو سکتا ہے، جب یہ سامراجی بن کر دوسرے ملکوں پر قبضہ کرے اور اپنی طاقت اور قوت کو استعمال کرے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تاریک براعظم اس وقت یورپی سامراجی ملکوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، جب انہیں اس کے نیچرل ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اب افریقہ کو دریافت کرنے کے لیے یورپی سیاح، مہم جو، سیاست دان اور دانشور اس کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرتگال، فرانس، انگلستان، جرمنی اور بیلجیئم نے اپنی فوجیں بھیج کر اس کے مختلف ملکوں پر قبضے کیے تو لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتداء اس کی غلاموں کے کاروبار سے ہوئی۔ پھر جیسے جیسے ان کے اقتدار میں اضافہ ہوا۔ سامراجی ملکوں نے زمینوں پر قبضہ کر کے مقامی آبادی کو نکالا اور ان کی جگہ اپنے ملکوں سے آبادکار لے کر آئے جن کی سرپرستی سامراجی حکومتوں نے کی۔

اس کے بعد تقریباً ہر شعبے میں تحقیق کا سلسلہ شروع ہوا۔ معدنیات کی کانیں دریافت ہوئیں۔ سونا، چاندی اور ہیروں کی دریافت نے یورپ کی بڑی تجارتی کمپنیوں کو ان پر اجارہ داری دے دی۔

جب کالونیز میں مزدوروں کی کمی واقع ہوئی تو برطانوی حکومت نے ہندوستان کے غریب اور بےروزگار مزدوروں کو اینڈ ینچرڈ کی حیثیت سے اپنی افریقی کالونیز میں بھجوا دیا۔ یہ ایک قسم کی غلامی تھی۔

انہیں کوئی یونین بنانے کی آزادی نہ تھی۔ کام کے اوقات سخت تھے۔ ان کی رہائش بھی وہیں ہوتی تھی، جہاں یہ کام کرتے تھے۔ یہ مزدور برطانیہ کی کالونیز میں کینیا، نائجیریا، یوگینڈا اور گھانا میں محنت و مشقت کرتے تھے۔

ان کے کوئی بنیادی حقوق نہ تھے۔ اگرچہ یہ برطانوی رعایا تھے۔ مگر برطانیہ نے ان کو کوئی تحفظ نہیں دیا۔ فرانس کی کالونیز افریقہ کے ملکوں میں تھیں۔ بیلجیئم کے پاس کانگو کی کالونی تھی۔ پرتگال کے پاس موزمبیق اور گینی بساؤ کی کالونیز تھیں۔ جرمنوں نے تنزانیہ اور نمیبیا پر قبضہ کر رکھا تھا۔ جنوبی افریقہ میں ڈِچ آباد تھے۔

انگلستان نے خاص طور سے انڈیا سے انجینیئر اور ٹیکنیشن اور انتظامیہ کے عہدیدار بھیجے۔ یورپ سے مسیحی مشنریز کی تبلیغی جماعتیں آئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یورپی سامراجیوں نے افریقہ کی تاریکی کو ختم تو کیا مگر اس میں جو روشنی پھیلائی وہ افریقی کلچر کی نہیں تھی۔

یورپی کالونیل پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ افریقہ کی تہذیب و کلچر پسماندہ ہوئے۔ ان کے مذہب کو تبدیل کیا گیا۔ اقتدار کی زبانیں انگریزی، فرانسیسی، پورتیگیز اور جرمن ہو گئیں۔

ان کی تاریخ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کے رسم و رواج کو حقارت سے دیکھا گیا۔ تا کہ ان میں کسی قوم پرستی کا احساس پیدا نہ ہو، لہٰذا المیہ یہ ہے کہ تاریک براعظم نے ان کے سرمائے اور دولت میں اضافہ کیا اور افریقہ خود پسماندہ ہی رہا۔

جب کلونیل دور کے بعد افریقی ملک آزاد ہوئے تو ان میں اپنی شناخت کی تلاش تھی۔ ان کے مورخ اور دانشوروں نے نئی تاریخ کی تشکیل کی۔ ادب اور آرٹ کو تخلیق کیا اور بقول فرانس فانون  (Frantz Fanon (d.1961)کے افریقہ کے لیے ضروری ہے کہ کلونیل ازم کے تمام نشانات کو مٹا دے تا کہ نئے کلچر کی بنیاد ڈالی جا سکے۔

اگرچہ افریقی ملک آزاد تو ہو گئے مگر کلونیل ازم نے اپنے اقتدار میں نئے ملک بنائے۔ ان ملکوں کی سرحدیں اپنی سیاست کے لیے تعین کیں، جس کی وجہ سے افریقہ کے ملکوں میں باہمی جھگڑے اور سرحدی فسادات ہوتے رہتے ہیں۔

آزادی کے بعد افریقہ کے اکثر ملکوں نے یورپی تہذیب کو رَد کرتے ہوئے سوشل ازم کے نظریے کو اختیار کیا۔ مگر انہیں سیاست میں اس لیے ناکامی ہوئی کیونکہ کلونیل ازم کے دور میں ان کے اپنے ادارے ختم کر دیئے گئے تھے۔

سیاست میں انہیں کوئی تجربہ نہیں تھا کیونکہ کلونیل حکومتیں مقامی لوگوں کی تحریکوں کو اپنے لیے بغاوت سمجھتی تھیں۔ اس لیے انہیں سختی سے کچل دیا جاتا تھا۔

اب افریقہ کے ملکوں کے لیے یہ کڑا وقت ہے کہ وہ جدید تعلیم و تریبیت حاصل کریں۔ اپنے فرسودہ کلچر کی جگہ نئے کلچر کی بنیاد رکھیں۔ اپنی تاریخ کی نئے سرے سے تشکیل کریں۔ اپنی مقامی زبانوں کو ترقی دے کر ان کو معیاری بنائیں اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ قوم کی تعمیر میں عام لوگوں کو شریک کریں اور انہیں مساوی سماجی درجہ دے کر ان کی عزت و وقار کو بحال کریں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *