حکومت پاکستان نے بدھ کو اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کیا اور 15 ستمبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں انڈین بحریہ کے ایک جہاز کی جانب سے ’انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدام پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔‘
دفتر خارجہ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نیوی کی بحری مشق ’سی سپارک-26‘ کے دوران انڈین جہاز نے پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کے انتہائی قریب خطرناک انداز میں جارحانہ حرکات کیں، جس کے نتیجے میں دونوں جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
بیان کے مطابق ’یہ واقعہ بین الاقوامی قانون اور ’فوجی مشقوں، جنگی مشقوں اور فوجی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع کے معاہدے، 1991‘ کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا۔‘
بیان میں بتایا کہ انڈین ناظم الامور سے کہا گیا کہ وہ انڈین حکومت کو آگاہ کریں کہ پاکستان اس جنگجویانہ اقدام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
’انڈین فریق پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدوں، بالخصوص سمندر میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے گئے معاہدوں کی سختی سے پابندی کرے۔‘
بیان کے مطابق ’نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی اںڈیا کی وزارت خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔‘
’پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انڈیا سے جنگجویانہ طرزِ عمل ترک کرنے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرے جو جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’یہ خطہ اںڈیا کی تنازع اور عدم استحکام کے حصول کی ’لاپرواہ کوششوں‘ کا مسلسل یرغمال بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق انڈیا کی وزارت خارجہ نے آج کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں پاکستانی بحری یونٹس اور انڈین بحری جہاز کے درمیان تصادم کے واقعے پر انڈیا نے پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کیا۔
انڈین وزارت خارجہ کے مطابق یہ تصادم منگل کو بحیرۂ عرب کے شمالی حصے میں ہوا جس میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
بیان کے مطابق انڈیا نے اس واقعے کو ’ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے فوجی یونٹس احتیاط کا مظاہرہ کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے گئے دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کریں۔
انڈیا نے اسلام آباد میں اپنے اعلیٰ سفارت کار سے بھی کہا کہ وہ یہ معاملہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اٹھائیں۔
