سعودی عرب نے اضافی 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ رول اوور کر دیا: پاکستان

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی ہے اور فی الحال پاکستان کو سعودی عرب سے اضافی مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان سے ان کی اچھی ملاقات ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات کے تناظر میں سعودی ڈپازٹس کی مدت سے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کے لیے سعودی مالی معاونت ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہے جب ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل مالی وسائل درکار ہیں۔

سعودی عرب اس سے قبل پاکستان کے پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت 2028 تک بڑھا چکا ہے، جبکہ اب تین ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت تین ماہ کے درآمدی اخراجات کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدی اخراجات کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کا دورانیہ بڑھا کر چار ماہ تک لے جایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے کسی اضافی مالی معاونت کی ضرورت نہیں، کیونکہ ملک کے پاس تین ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے 2028 تک پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس اور مزید تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت میں توسیع کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔

پاکستان حکومت کی کوشش ہے کہ قلیل مدت اور نسبتاً مہنگے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کر کے طویل مدت کے مالی وسائل حاصل کیے جائیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ادائیگیوں کو مختلف مالی سالوں میں تقسیم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

پاکستان کو رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی مد میں تقریباً چار ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، جبکہ گذشتہ مالی سال یہ ادائیگیاں ساڑھے چار ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو کم کر کے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر تک لایا جائے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے کے لیے سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا گیا تھا، جبکہ اس سلسلے میں چھ ارب ڈالر کی آرڈر بک موجود تھی۔ اگر یہ سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور ڈالر، روپے اور دیگر کرنسیوں میں سیٹل ہونے والے بانڈز کے اجرا پر بھی کام کر رہا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ ملاقاتوں میں 80 سے 90 کے قریب ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے بات چیت ہوئی ہے اور ان سرمایہ کاروں نے پاکستان کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ یورو بانڈز میں ساڑھے پانچ سال اور 10 سال کی مدت کے بانڈز شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کو صرف آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں نہیں بلکہ طویل مدت کے لیے بھی دیکھ رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ امریکی حکام سے جس ممکنہ سہولت کے لیے درخواست کی گئی تھی، وہ دراصل ایک لیکویڈیٹی سپورٹ سہولت ہے، جس کا مقصد خودمختار سطح پر پاکستان کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ اگر یہ سہولت مل جاتی ہے تو اچھی بات ہے، تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعاون کے دیگر شعبے بھی ہیں۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے ساتھ تعاون کے امکانات پر کام ہو رہا ہے، جن کے ذریعے پاکستان میں امریکی برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ حقیقی سرمایہ کاری اور کریڈٹ فنانسنگ ہو گی۔

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ حکومت نے یورو بانڈز کی مدت کا تعین اس طرح کیا ہے کہ مستقبل میں کسی ایک مالی سال میں قرضوں کی ادائیگیوں کا غیر معمولی بوجھ جمع نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے پانچ سالہ یورو بانڈ جاری کرنے کا فیصلہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ اس کی ادائیگی اگلے مالی سال میں منتقل ہو اور ہر سال تقریباً ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگیوں میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس طرح کسی بھی حکومت کو قرضوں کی ادائیگی اور رقم کی واپسی کے انتظام میں غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

پاکستان کا بیرونی قرضہ گذشتہ ایک دہائی میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ مالی سال 2015-16 میں بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 45 ارب ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ حکومت کی موجودہ حکمت عملی میں نئے قرضوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ان کی مدت بڑھانا اور ادائیگیوں کے بوجھ کو بہتر انداز میں منظم کرنا بھی شامل ہے۔

آئی ایم ایف کے آئندہ پروگرام اور ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا شیڈول دسمبر میں ہے، تاہم اجلاس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ اس سوال پر کہ آیا پاکستان کو مستقبل میں کسی نئے پروگرام کی ضرورت ہو گی یا نہیں، وزیر خزانہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *