امریکی عدالت نے افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ روک دیا

امریکی وفاقی عدالت نے درجنوں افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کو منگل کو روک دیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے افغان تارکین وطن کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

نیویارک کے جنوبی ضلعی عدالت کی جج ویلیری کیپرونی نے فیصلہ دیا کہ امریکہ اس ہفتے کسی بھی افغان شہری کو افغانستان یا پاکستان نہیں بھیج سکتا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرسٹوفر جارج نے عدالت کو بتایا کہ اس ہفتے امریکہ میں مقیم افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے کے لیے ’کسی خصوصی یا کمرشل پرواز کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔‘

امریکی میڈیا نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف تازہ ترین سخت اقدامات کے تحت امریکہ میں مقیم 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جانا تھا۔

افغان شہریوں کی سابق اتحادیوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے مطابق اس گروپ میں ان افغان شہریوں کے رشتہ دار بھی شامل تھے، جنہوں نے کابل پر طالبان کے قبضے سے قبل ملک میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔

منگل کے عدالتی فیصلے کے بعد افغان ایویک کے صدر شان وان ڈائیور نے ایک بیان میں کہا: ’ایک ہفتہ پہلے ایک طیارہ موجود تھا۔ آج حکومت نے ایک وفاقی جج کو بتایا کہ ایسا کوئی طیارہ نہیں ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’یہ اتفاقاً نہیں ہوا۔ سابق فوجیوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، کانگریس کے 66 ارکان اور ہزاروں امریکی شہریوں نے اس پرواز کو رکوانے میں کردار ادا کیا۔‘

افغانستان کی طالبان حکومت نے پیر کو افغان شہریوں کی ملک بدری کے مبینہ منصوبے پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا تھا۔

2021 میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان حکام نے مغربی حمایت یافتہ افواج اور حکومتوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ رواں سال بھی وہ متعدد بار یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ ان کے سابق مخالفین بحفاظت وطن واپس آ سکتے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ نے ماورائے عدالت قتل، حراست میں لیے جانے اور بدسلوکی کے واقعات سے متعلق رپورٹس ریکارڈ کی ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی حکومت نے رواں سال کے آغاز میں ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بغیر ویزا مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ اقدام کئی سال سے جاری افغان شہریوں کی وطن واپسی کی پالیسی کا حصہ تھا، جس کے تحت کئی دہائیوں کی جنگ کے دوران افغانستان سے فرار ہونے والے لاکھوں افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

طالبان حکام کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جن میں گذشتہ سال اکتوبر میں سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد مزید خرابی آئی۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں سرحد تقریباً مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ سال امیگریشن کے خلاف وسیع تر سخت اقدامات کے تحت افغانستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

ان کی انتظامیہ نے افغان شہریوں کو حاصل ملک بدری سے تحفظ ختم کرنے کی بھی کوشش کی، جن میں سے بعض کو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خصوصی تارکین وطن کے ویزے جاری کیے گئے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *