انڈیا کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان مرسو منگل کو ملک کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران اس خطے سے ٹکرانے والا یہ دوسرا سمندری طوفان ہے، جس کے پیش نظر حکام نے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ شدید سمندری طوفان جنوب مشرقی ریاست آندھرا پردیش کے ساحل سے مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 30 منٹ سے 5 بج کر 30 منٹ کے درمیان ٹکرایا۔
اس دوران ہواؤں کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ (62 سے 68 میل فی گھنٹہ) جبکہ تیز جھکڑوں کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔
آندھرا پردیش سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر پراکھر جین نے بتایا کہ تاحال کسی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم طوفانی ہواؤں کے باعث بعض درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔
حکام نے پیر کو ہی ہزاروں افراد کا انخلا شروع کر دیا تھا اور ریاست آندھرا پردیش میں تقریباً 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جو طوفان کی زد میں ہے۔
سمندری طوفان مرسو خلیج بنگال کے اوپر تشکیل پایا، جو سمندری طوفانوں کی تشکیل کا ایک بڑا مرکز ہے اور ماضی میں انڈیا کے مشرقی ساحل پر تباہ کن طوفانوں کا سبب بن چکا ہے۔
انڈین محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آندھرا پردیش اور اس کے جنوب میں واقع ریاست تامل ناڈو طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل سمندری طوفان ارنب کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جان سے گئے تھے۔ محکمہ موسمیات نے اسے انتہائی شدید سمندری طوفان قرار دیا تھا، جو بدھ کو آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرایا تھا۔
انڈیا میں سمندری طوفان کی تباہ کاریاں
بدھ کو سمندری طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد انڈیا کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں شدید ہواؤں اور موسلادھار بارش نے تباہی مچائی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں کم از کم تین افراد جان سے گئے اور تقریباً ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
کاکیناڈا کے قریب ایک سرکاری پناہ گاہ میں منتقل کی گئی 65 سالہ راجیشوری نے بتایا کہ ’ہمارے گھروں میں پانی بھر جاتا ہے اور ہمیں پانی میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘
بحر اوقیانوس کے شمالی حصے میں آنے والے سمندری طوفانوں کو ہری کین جبکہ بحرالکاہل میں آنے والے طوفانوں کو ٹائیفون کہا جاتا ہے۔ خلیج بنگال اور شمالی بحرہند میں سمندری طوفان معمول کے مطابق ایک بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم ال نینو موسمیاتی مظہر کے باعث اس سال طوفانی موسم کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس نے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
بعد ازاں سمندری طوفان ارنب نیپال کی جانب بڑھ گیا، جہاں اس کے نتیجے میں ہمالیہ کے بلند پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری ہوئی جبکہ ہفتے تک مختلف علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
