کوئٹہ میں بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (بی بی او آئی ٹی) اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے اشتراک سے کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے ’ویکس نیٹ‘ کے نام سے دو روزہ نمائش کا اہتمام کیا گیا۔
اس نمائش میں بلوچستان بھر سے ایکسپو میں بلوچستان بھر سے 300 سے زیادہ کاروباری خواتین نے حصہ لیا اور اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔ اپنی مدد آپ کے تحت مصنوعات تیار کرنے والی یہ خواتین اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنا کاروبار کر رہی ہیں۔
اپنے سٹال پر موجود ضلع لورالائی کی راحیلہ کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں نے کیسور، لورالائی اولیو کے نام سے زیتون کے تیل کی پراڈکٹ تیار کی ہے۔ میری یہ پراڈکٹ نہ صرف بڑے سٹورز پر دستیاب ہے بلکہ آن لائن ذریعے سے بھی مختلف شہروں میں مال سپلائی کیا جا رہا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
بنیادی طور پر نرسنگ کے شعبے سے وابستہ رہنے والی راحیلہ کاکڑ نے بتایا کہ ’جب میں نے دیکھا کہ کاروباری میدان میں خواتین کسی سے کم نہیں اور اس شعبے میں بہت کچھ حاصل کر سکتی ہیں، تو والدین کی مشاورت سے اس دنیا میں قدم رکھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ لورالائی میں ان کا اپنا زیتون کا باغ ہے۔ پہلے ان کے والد زیتون کا خام مال ٹھیکے دار کو فروخت کرتے تھے، لیکن اب انہوں نے پراسیسنگ کا عمل خود سنبھال لیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی سالانہ آمدنی میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
راحیلہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمارے پاس 10 خواتین اور تین مرد کام کر رہے ہیں۔ میرے اس فیلڈ میں آنے سے دیگر خواتین کو بھی روزگار ملا ہے۔ لورالائی کے زیتون کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور کوالٹی کے لحاظ سے اسے گولڈ میڈل بھی مل چکا ہے۔‘
ضلع پشین کی بی بی روغدیہ نے بتایا: ’پہلے میں نے سلائی کا کام شروع کیا اور ساتھ ہی ایک گائے خرید کر اس کا دودھ بازار میں بیچنا شروع کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مزید گائے اور بکریاں خریدیں۔ اس وقت میرے پاس 6 گائیں اور 70 کے قریب بکریاں اور بھیڑیں موجود ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف اداروں سے کاروبار کی تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دودھ، دہی، مکھن، دیسی گھی اور قروت جیسی ڈیری مصنوعات کی پراسیسنگ شروع کر دی۔ اس وقت وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں ڈیری مصنوعات سپلائی کر رہی ہیں۔
بی بی روغدیہ کے مطابق: ’اس کام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جو خواتین پہلے گھروں سے نہیں نکل سکتی تھیں، اب وہ چار دیواری کے اندر باعزت روزگار کما رہی ہیں۔ اس وقت 10 سے 12 خواتین میرے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔‘
پنجگور کی شبانہ حنیف نے بتایا کہ ’پنجگور میں ہمارا اپنا کھجور کا باغ ہے۔ میں اور دیگر خواتین درختوں سے کھجوریں توڑتیں اور دیگر کام کرتی تھیں، جب کہ مرد تیار شدہ مال مارکیٹ تک لے جاتے تھے۔ اس دوران میں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ خود اپنی پراڈکٹ تیار کروں اور خود ہی مارکیٹنگ کروں۔‘
انہوں نے ’پنجگور بلیک ڈائمنڈ‘ کے نام سے اپنا برانڈ بنایا۔ اب وہ باغ سے کھجوریں توڑنے اور پراسیسنگ کے بعد انہیں خود مارکیٹ تک سپلائی کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’پنجگور میں 180 اقسام کی کھجور پیدا ہوتی ہے۔ مضافاتی کھجور عجوہ کے بعد نہ صرف سب سے زیادہ مفید ہے بلکہ اسے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شبانہ حنیف کے مطابق ان کے ساتھ 20 دیگر خواتین بھی کام کر رہی ہیں، جنہیں پیکنگ اور پراسیسنگ کی تربیت دی گئی ہے اور وہ بہترین انداز میں کام کر کے اپنا رزق کما رہی ہیں۔ ان کے برانڈ میں شادی پیکج، حلوہ، چاکلیٹ اور دیگر آئٹمز شامل ہیں۔
سیکرٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، شہریار تاج نے ’ویکس نیٹ‘ کے پس منظر اور آغاز کے حوالے سے بتایا کہ ’اس کا آغاز سال 2000 میں کیا گیا تھا اور اب تک ملک بھر میں ایسی تقریباً 12 نمائشیں لگائی جا چکی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وفاقی وزیر جام کمال خان کی بھی ذاتی خواہش تھی کہ بلوچستان کی خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور اپنی مصنوعات کی نمائش کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت بنا سکیں۔‘
ان کے مطابق، ویکس نیٹ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے کاروباری خواتین کو نئی منڈیوں، خریداروں اور کاروباری مواقع سے منسلک ہونے میں مدد ملے گی۔
