امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حملوں کا خطرہ، ایرانی حکام کی قطری ثالثوں سے ملاقات

مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے خلیج میں جنگ سے نکلنے کے راستوں پر بات چیت کے لیے ہفتے کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں، جب کہ سفارت کار اس ہفتے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی لڑائی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا ایران کے خلاف نئے حملے شروع کیے جائیں یا نہیں، تاہم وہ اس تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل حالیہ ہفتوں میں ایران پر حملے روک رکھے ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ آیا ان کی ریپبلکن پارٹی امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذریعے نے بتایا کہ قطری دارالحکومت میں ہفتے کو ہونے والے مذاکرات، جمعے کو تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئے ہیں۔ ذریعے نے بتایا کہ ان مذاکرات کو واشنگٹن کے ساتھ باقاعدہ رابطوں کے ساتھ جوڑا  جا رہا ہے۔

خطے کے ممالک یہ توقع کر رہے ہیں کہ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا جواب پڑوسی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا کر دے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو ایک بیان جاری کیا جس میں مسلح افواج کو کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ بعد ازاں ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ وہ اپنی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

سپریم لیڈر نے ہفتے کو اپنے آفیشل ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’کسی بھی سطح یا قسم کے خطرے کا فوری، موثر اور جغرافیائی قید سے آزاد جواب دیا جانا چاہیے۔‘ جنگ کے آغاز میں قتل ہونے والے اپنے والد کی جگہ لینے کے بعد سے وہ منظر عام پر نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ کمانڈروں نے خلیجی ساحل، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اندر اور اس کے ارد گرد، اور ایران کی شمال مغربی اور جنوب مشرقی سرحدوں پر انتہائی تیاری کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔

ایران کے بااثر سکیورٹی چیف محسن رضایی نے کہا کہ تہران اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں پر عائد اپنی طویل مدتی پابندی اٹھائی جائے یا نہیں، اگرچہ انہوں نے کہا کہ ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، اس کے ایٹمی پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

اٹلانٹا میں جی 20 کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنے والے روبیو نے قطر میں ہونے والے مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر کرنے سے انکار کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’کئی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔ درحقیقت مذاکرات کا سلسلہ کبھی رکا ہی نہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روبیو نے کہا کہ ٹرمپ ’اسے سفارتی سطح پر حل کرنے کو ترجیح دیں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ صدر آپ کے سامنے اس غیر معمولی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر ہمیں عسکری سطح پر کچھ کرنے کی ضرورت پڑی، تو ہم ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

اختلافات کے باوجود سفارت کاری جاری

فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ چھیڑنے والے ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے منصوبوں کا بارہا اشارہ دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے اسرائیلیوں پر ان کے اپنے انتخابات سے قبل زور دیا کہ وہ جنگ کے دوران ان کے اتحادی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار میں رکھیں تاکہ دونوں رہنما ’یہ کام مکمل کر سکیں۔‘

لیکن واشنگٹن نے بھی حال ہی میں ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔ اس ہفتے کے اوائل میں، ایران کے ساتھ مذاکرات کے پچھلے ادوار میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے سکیورٹی چیف رضائی کو ایک خط لکھا، جسے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل نے یہ جانچنے کے لیے ایک پیش رفت قرار دیا کہ آیا مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے یا نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *