امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ کہا ہے کہ اسلام آباد کو ’افغانستان سے ہونے والے حملوں‘ پر طالبان کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کی جانے پر تشویش ہے۔
جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’پاکستان کو ان دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے جن کی سرپرستی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’واشنگٹن نے اسلام آباد کے تحفظات سن لیے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
روبیو نے مزید کہا: ’ان (پاکستان) کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، اور انہوں (پاکستان) نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اگر ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوئی، تو ہم اسے ادا کریں گے۔‘
مارکوروبیو نے کہا کہ ’امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ یہ کہاں سے جنم لیتی ہے یا کسے نشانہ بناتی ہے۔‘ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ کوئی خاص قریبی تعلقات نہیں ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پانچ سال قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان سے متصل اپنے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔
پاکستان نے گذشتہ مہینوں کے دوران سرحد پار حملوں اور افغان طالبان پر کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کے الزامات لگائے گئے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے، کیوں کہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل نے ان کے خلاف خاطر خواہ ایکشن نہیں لیا جس کی افغانستان تردید کرتا ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بند ہے
دراندازی کے معاملے پر دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور کشیدگی بارہا مسلح جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔
Ministry of Information and Broadcasting 31 October 2026 The Afghan Taliban spokesperson’s latest tweet exposes the regime’s deeply misguided approach and unwillingness to confront the root cause of deteriorating relations with Pakistan. The Taliban leadership continues to blame Islamabad’s policies while conveniently ignoring the single most important issue poisoning bilateral relations: its persistent failure to address terrorism emanating from Afghan soil. Pakistan’s position is unequivocal: *terrorism is a red line and the security of its citizens is non-negotiable.* The Afghan Taliban regime must understand that Pakistan will not tolerate terrorist sanctuaries across its borders that impact its security nor allow its people to remain targets of terrorism emanating from Afghanistan. Pakistan reserves the right to take all necessary measures, in accordance with international law, to eliminate threats to its national security, wherever they originate. Kabul must recognise that the responsibility for addressing these threats rests squarely with the Afghan Taliban regime. Pakistan’s resolve to protect its people must never be mistaken for weakness. The Taliban regime’s persistent refusal to address terrorism remains the principal obstacle to normal relations. Shifting blame, making hollow assurances and questioning Pakistan’s policies will neither resolve the crisis nor absolve Kabul of its responsibilities. The Afghan Taliban leadership must understand that *Pakistan’s security will not be held hostage to _Afghan Taliban’s_ inaction, evasions or misplaced priorities.*
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 31, 2026
گذشتہ سال 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ یہ مذاکرات سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد ہوئے تھے۔
25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور نگرانی و تصدیق کا ایک طریقہ کار قائم کرنا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور وہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے جس کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔
