پاکستان ’جیو اکنامکس‘ کو کیسے کارگر بنائے؟

’جیو اکنامکس‘ کی اصطلاح کی کوئی ایسی تعریف نہیں جس پر سب کا اتفاق ہو۔ عام طور پر اس کا مطلب کسی ملک کے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے معاشی ذرائع کا استعمال سمجھا جاتا رہا ہے۔

سرد جنگ  کے دور میں، اس اصطلاح کو ’میکیاولی‘ انداز میں استعمال کیا جاتا تھا، یعنی یہ استدلال کیا جاتا تھا کہ حریفوں کے مقابلے میں اپنے قومی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے معاشی دباؤ کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

سرد جنگ کے اختتام کے قریب، جیو اکنامکس کی اس تشریح میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ ایڈورڈ لٹواک  نے 1990 میں اپنے مشہور مضمون ’جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی جانب‘ میں پیش گوئی کی تھی کہ تجارت کا منطقی انداز عسکری طریقوں کی جگہ لے لے گا اور فوجی چھاؤنیوں یا اڈوں کے مقابلے میں منڈیوں تک رسائی زیادہ اہم ترجیح بن جائے گی۔

اس اصطلاح کو سمجھنے کا ایک اور زاویہ یہ ہے کہ کوئی ملک اپنے قومی مفادات کے فروغ کے لیے اپنے جغرافیے (جغرافیائی محل وقوع) کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ ان تینوں تشریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیو اکنامکس کو ’جیو پولیٹکس‘ سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا، در حقیقت، یہ معاشی ذرائع کے ذریعے کی جانے والی جیو پولیٹکس ہی ہے۔

آج کے دور میں جیو پولیٹیکل اہداف کے حصول کے لیے معاشی آلات کی ایک وسیع رینج استعمال کی جا رہی ہے، جن میں ٹیرف (محصولات)، تجارتی مراعات یا برآمدی پابندیاں، اشیا کی قیمتیں، اقتصادی پابندیاں، سبسڈی، غیر ملکی امداد اور مالیاتی قدغنیں شامل ہیں۔

جو ملک سپلائی چینز، مالیاتی نظاموں یا جدید ٹیکنالوجیز کی دنیا میں اہم حیثیت اختیار کر لیتا ہے، وہ اپنے قومی مفادات کے فروغ کے لیے جیو اکنامکس کا بہتر استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، چین نے اپنی معاشی طاقت کو اپنے جیو پولیٹیکل مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ اسی طرح سنگاپور نے، جو کہ ایک چھوٹا سا ’شہر – ریاست‘ ہے، اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو عالمی تجارت اور کاروبار کا مرکز بنا لیا ہے۔

پاکستان میں جیو اکنامکس کا تصور حال ہی میں متعارف کرایا گیا، جب 2022 کی ’قومی سلامتی پالیسی‘ کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی میں اس اصطلاح کو قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں شامل کیا گیا۔ اس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ روایتی دفاع، معاشی سلامتی (بشمول جیو اکنامکس) اور انسانی سلامتی—یہ وہ تین ستون ہیں جن پر ملک کی قومی سلامتی کی بنیاد قائم ہے۔ معاشی تحفظ کے دائرے میں ’جیو اکنامکس‘ کا ذکر ایک ایسے تصور کے طور پر کیا گیا جو قومی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے کسی ملک کے جغرافیے، اس کی معاشی طاقت اور علاقائی روابط کے امکانات کو بروئے کار لائے گا۔

پاکستان کا محل وقوع اسے ایشیا کے تین ذیلی خطوں—جنوبی، مغربی اور وسطی ایشیا—کے سنگم پر کھڑا کرتا ہے۔ یہ معاشی جغرافیہ ان ممالک کو آپس میں جوڑتا ہے جو اربوں انسانوں، توانائی کے بھرپور ذخائر اور نوجوان افرادی قوت کا مسکن ہیں۔ کیا پاکستان نے اس معاشی جغرافیے سے کوئی فائدہ اٹھایا ہے؟ اس کا واضح جواب ہے: ابھی تک نہیں۔

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مشکل خطے میں رہتے ہیں جہاں عدم اعتماد کا سایہ ہر قسم کی معاشی روابط کی کوششوں پر چھایا رہتا ہے؟ یا پھر اس خطے کی جغرافیائی سیاست اتنی پیچیدہ ہے کہ اس میں جغرافیائی معاشیات کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی؟ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، آج کی اس عالمگیر اور باہم مربوط دنیا میں، پاکستان کو اپنی معاشی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اپنے جغرافیے کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی اور عسکری اثر و رسوخ کو ہماری معاشی ترقی کے لیے بھی بروئے کار لانا چاہیے۔

 اول، چین کے ساتھ ’سی پیک 2.0‘کے ذریعے اور اس کے توسط سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور یوریشیا کے ساتھ پاکستان کا معاشی تعاون بڑے معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے، بشرطیکہ ملک کے اندر سکیورٹی خدشات اور پالیسی و ضوابط کی رکاوٹوں کو اعلیٰ ترجیح کی بنیاد پر دور کیا جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوم، پاکستان کو باہمی فائدے پر مبنی معاشی تعلقات کے لیے امریکہ کے ساتھ بھی رابطے اور مشغولیت برقرار رکھنی چاہیے۔ یہ دلیل کہ پاکستان کو ایک طاقت (چین) کو دوسری (امریکہ) پر ترجیح دینی چاہیے (یا اس کے برعکس)، موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ آج کی عالمی سیاست میں مسابقت اور تعاون دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

سوم، سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں، گذشتہ سال ستمبر میں طے پانے والا پاک سعودی سٹریٹجک دفاعی معاہدہ اور رواں سال اگست میں ہونے والا پاک سعودی ترکی مشترکہ دفاعی معاہدہ، دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔

فی الحال، سعودی قیادت یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے درپیش سکیورٹی چیلنجوں اور امریکہ ایران کشیدگی جیسے معاملات میں مصروف ہے۔ اس صورت حال میں ٹھوس معاشی تعاون غالباً عسکری اور سکیورٹی کے شعبوں تک ہی محدود رہے گا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، پاکستان کو اس خیرسگالی کو ٹھوس منصوبوں کی تشکیل اور مارکیٹنگ کے ذریعے اپنے وسیع تر معاشی مفاد میں ڈھالنا ہو گا۔ بلاشبہ، اس کے لیے اپنے سرمایہ کاری کے نظام کو مزید ہموار اور پرُکشش بنانے کی خاطر کافی محنت درکار ہو گی۔

چہارم، پاکستانی قیادت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کی اچھی کوشش کی ہے۔ ہمیں اس وقت ابتدائی کامیابی ملی تھی جب مغربی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ایک روڈ میپ کے طور پر ’اسلام آباد مفاہمت نامہ‘ پر دستخط کیے گئے تھے۔

پاکستان آج بھی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جسے ایرانی قیادت نے بھی سراہا ہے۔ تاہم، جنگ ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر، پاکستان اور ایران کو باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایسے جدید طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے (خاص طور پر سرحدی منڈیوں کے ذریعے) جن سے امریکی پابندیاں لاگو نہ ہوں۔

پانچویں بات یہ ہے کہ پاکستان کو ان قوتوں سے بھی مؤثر طریقے سے نمٹنا ہو گا جو اسے جغرافیائی و اقتصادی  فوائد حاصل کرنے سے روک رہی ہیں۔ ایک بڑی رکاوٹ خطے میں بالادستی قائم کرنے کی انڈیا کی کوشش ہے، جو جغرافیائی و اقتصادی بیانیے کے منافی ہے اور خطے میں مشرق و مغرب کے درمیان رابطوں کی راہ میں حائل ہے۔ صورت حال کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے، طالبان حکومت پاکستان میں مشکلات پیدا کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہی ہے۔ افغانستان، انڈیا اور پاکستان — تینوں ممالک کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ عالمی نظام میں حالیہ ہنگامہ خیزی تمام ممالک کو باہمی علاقائی تعاون کی جانب دھکیل رہی ہے۔

بدقسمتی سے، جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے۔ اگرچہ پاکستان نے فعال سفارت کاری کے ذریعے مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کامیابی سے مضبوط کیا ہے، لیکن جنوبی ایشیا کو دیگر خطوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح باہمی تعاون پر مبنی علاقائی جغرافیائی و اقتصادی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

چھٹی اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو قومی سطح پر ایسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے جن سے جغرافیائی و اقتصادی فوائد کا حصول ممکن ہو سکے۔ ان اقدامات میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے نظام کو مزید پرکشش بنانا، کاروبار میں آسانی  کے لیے ٹھوس کوششیں کرنا اور توانائی کی پالیسیوں کو معقول بنا کر کاروباری لاگت کو کم کرنا شامل ہے۔

اس ضمن میں شمسی توانائی (سولر انرجی) کو فروغ دینا اور آئی پی پیز کو ادا کیے جانے والے ناقابلِ برداشت ’کیپیسٹی چارجز‘ کا کوئی مستقل حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ہمیں اپنی یونیورسٹیوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایسی صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی جو ’فیزیبلٹی سٹڈیز‘ (امکاناتی جائزوں) کی تیاری، علاقائی منصوبوں کی تشکیل اور پراجیکٹ مینجمنٹ کے امور سنبھال سکیں۔ ایک اور اہم شعبہ ہماری قانونی صلاحیت ہے۔ ہمیں تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بات چیت کرنے کے لیے اپنی قانونی مہارت کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ اپنے قومی معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیں غیر ملکی وکلا پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ جب ہم ان تمام شعبوں میں خاطر خواہ پیش رفت کر لیں گے، تو ہمارے تھنک ٹینکس اور میڈیا اس پوزیشن میں ہوں گے کہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر سکیں جو اپنے جغرافیائی محل وقوع سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد اور اس سے جڑے مواقع سے استفادہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مصنف پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور ’صنوبر انسٹی ٹیوٹ‘کے چیئرمین ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *