دہشت گردی ریڈ لائن ہے، افغان طالبان کی الزام تراشی سے بحران حل نہیں ہوگا: پاکستان

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور وہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے جس کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے ردعمل میں پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ افغان طالبان کے ترجمان کا حالیہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کابل کی قیادت پاکستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات کی بنیادی وجہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وزارت کے مطابق طالبان قیادت افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی روکنے میں اپنی ناکامی کو نظرانداز کرتے ہوئے اسلام آباد کی پالیسیوں کو دوطرفہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔

پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار دہشت گردوں کی ایسی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا جن سے اس کی سلامتی متاثر ہوتی ہو اور نہ ہی اپنے شہریوں کو افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہنے دے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے چاہے یہ خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔

وزارت کے مطابق کابل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور پاکستان کے اپنے شہریوں کے تحفظ کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیوں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے نہ بحران حل ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو سکے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان طالبان کی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کیا کہا تھا؟

حریت ریڈیو پشتو کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے ریڈیو آزادی سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، تاہم ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک اور افغان طالبان حکومت کے عہدیداروں کی کوششیں بھی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی پالیسیوں پر اصرار مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل میں رکاوٹ ہے اور اسلام آباد پرامن حل کے لیے ضروری آمادگی نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ان مسائل کا ذمہ دار نہیں اور وہ اب بھی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *