فلپائن: مسلم اکثریتی خطے میں پہلا چیف منسٹر منتخب

فلپائن کے خطے منڈاناؤ کے مسلم اکثریتی خودمختار علاقے بانگسامورو میں پہلی بار جمعے کو چیف منسٹر منتخب کر لیا گیا۔

پہلے چیف منسٹر عبدالروف المعروف سمی گمبار مکاکوا نے80  ارکان پر مشتمل علاقائی پارلیمنٹ میں 51 ووٹ حاصل کیے اور سابق عبوری چیف منسٹر مراد ابراہیم کو شکست دی۔

اس انتخاب کے ساتھ ہی علاقے میں گزشتہ سات سال سے جاری عبوری حکومتی نظام ختم ہو گیا اور ایک باقاعدہ منتخب علاقائی حکومت کے قیام کا راستہ ہموار ہو گیا۔

مکاکوا ماضی میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ  کے ایک اہم رہنما تھے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے فلپائن کی حکومت کے ساتھ طویل عرصے تک مسلح جدوجہد کی اور بعد ازاں امن معاہدے کے ذریعے سیاسی عمل میں حصہ لیا۔

وہ اس تنظیم کے مسلح ونگ، بانگسامورو اسلامک آرمڈ فورسز، کے چیف آف سٹاف بھی رہ چکے ہیں۔

بانگسامورو میں یہ تبدیلی کیوں آئی؟

اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے کچھ پس منظر جاننا ضروری ہے۔ فلپائن کے جنوبی علاقے میں مورو مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی آباد ہے۔ یہ لوگ کئی دہائیوں سے زیادہ خودمختاری اور اپنے سیاسی و انتظامی معاملات خود چلانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے فلپائن کی حکومت کے خلاف طویل مسلح جدوجہد کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں فلپائن کی حکومت اور مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے درمیان امن معاہدہ ہوا، جس کے نتیجے میں بانگسامورو آرگینک لا منظور کیا گیا۔

اس قانون کے تحت 2019 میں بانگسامورو کے نام سے ایک خودمختار علاقہ قائم کیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس علاقے کے انتظام کے لیے ایک عبوری ادارہ بنایا گیا تھا جسے بنگسامورو ٹرانزیشنل اتھارٹی (BTA) کہا جاتا تھا۔

اب 14 ستمبر کو پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے، جس کے بعد عبوری ادارے کی جگہ 80 ارکان پر مشتمل باقاعدہ پارلیمنٹ نے لے لی اور اسی پارلیمنٹ نے پہلا چیف منسٹر منتخب کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *