حوثی حملوں کے بعد کارروائی میں میزائل لانچرز اور ذخیرے کو نشانہ بنایا: اتحادی افواج

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی سرزمین، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے لیے اپنے دفاع کے حق اور ذمہ داری کے تحت خطرات کا باعث بننے والوں کے خلاف خصوصی فوجی کارروائی کی ہے۔

اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے پیر کو ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’یہ کارروائی دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور یمن میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بار بار کوششوں کے جواب میں کی گئی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کارروائی میں حوثی ملیشیا کے زیرِ قبضہ علاقوں میں واقع فوجی اہداف کو تباہ اور غیر مؤثر بنایا گیا۔

’کارروائی کے دوران بیلسٹک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والے پانچ گودام اور میزائل داغنے کے چار پلیٹ فارم تباہ کیے گئے، جبکہ میزائلوں کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘

سعودی عرب نے اتوار کو بتایا تھا کہ یمنی حوثیوں کی طرف سے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب آنے والے ڈرونز اور 10 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

یہ تنازع امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک ایسے محاذ کی صورت اختیار کر گیا ہے جو خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ کر رہا ہے جبکہ اس وسیع تر جنگ میں امریکہ کا اتحادی سعودی عرب بھی دباؤ کی زد میں آ گیا ہے۔

اتوار کو سعودی عرب کے شہری دفاع کے حکام نے ریاض، ابہا اور خمیس مشیط کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتحاد نے بتایا کہ ریاض کی جانب دو ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل، جبکہ جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب ایک کروز میزائل داغا گیا تھا۔

ان تازہ حملوں کے بعد پیر کو اتحادی افواج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں ’حوثی ملیشیا کی ان رسدگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے درمیان اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

’اس کے علاوہ ملیشیا کی فوجی تیاریوں، اس کے جنگجوؤں کے اجتماعات اور یمن کے اندرونی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت کے راستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘

ترکی المالکی نے کہا کہ ان کارروائیوں کا ’مقصد یمن کے اندر شہریوں کو حوثی ملیشیا کے جبر سے بچانا اور اس کے خطرات کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔‘

ان کے مطابق، فوجی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی اصولوں کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *