سائنس دانوں نے پہلی بار انسانی جسم کے اندر ڈی این اے میں تبدیلی کر دی

جین میں ترمیم کی ایک تکنیک کے ذریعے پہلی بار انسانی جسم کے اندر ہی ڈی این اے میں تبدیلی کی گئی ہے۔

ایک طبی آزمائش میں سائنس دانوں نے ’پرائم ایڈیٹنگ‘ کے نام سے معروف ایک انتہائی نپا تلا طریقہ استعمال کرتے ہوئے جگر کے خلیوں میں ولسن بیماری کے باعث پیدا ہونے والی جینیاتی تبدیلی کو درست کیا۔

ولسن بیماری ایک نایاب عارضہ ہے جس میں جسم اضافی تانبے کو خارج کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی اس پیش رفت سے ایسی جینیاتی تھراپیز کی راہ ہموار ہوئی ہے جو زیادہ تیزی سے، کم خرچ اور کم مداخلت کے ساتھ انسانی جسم کے اندر ہی ڈی این اے کی مرمت کر سکیں گی اور اس طرح لیبارٹری میں پیچیدہ طریقہ کار کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ولسن ڈیزیز ایسوسی ایشن کی صدر رونڈا رولینڈ نے کہا ’میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اپنی زندگی میں اپنی نایاب بیماری کے علاج کے لیے اس طریقے کا استعمال دیکھ سکوں گی۔ یہ سال بہت پُرجوش ثابت ہونے والا ہے۔‘

ولسن بیماری ’اے ٹی پی 7 بی‘ جین میں تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے۔ یہ جین ایک ایسا پروٹین بناتا ہے جو جگر سے اضافی تانبے کو خارج کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

علاج نہ ہونے کی صورت میں تانبا جسم میں جمع ہو کر زہریلی سطح تک پہنچ جاتا ہے، جس سے جگر کو شدید نقصان، اعصابی افعال میں خرابی اور دماغی و اعصابی عوارض پیدا ہو سکتے ہیں۔

موجودہ علاج میں مریضوں کو زندگی بھر جسم سے تانبا خارج کرنے والی ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں لیکن جین میں ترمیم کے ذریعے اس خرابی کو براہِ راست درست کر کے ایک ہی بار میں مستقل علاج فراہم کرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

جین میں ترمیم کی روایتی تکنیکیں مثلاً ’کرسپر کاس 9‘، عموماً جینز کو غیر فعال کر دیتی ہیں، بجائے اس کے کہ ان کی ترتیب کو دوبارہ لکھا جائے۔

اس کے برعکس پرائم ایڈیٹنگ ایک خردبینی لفظی تدوین کے آلے کی طرح کام کرتی ہے جو غیر معمولی درستگی کے ساتھ ڈی این اے کے مخصوص حصوں کو شامل، حذف یا تبدیل کر سکتی ہے۔

امریکہ کی بایوٹیکنالوجی کمپنی ’پرائم میڈیسن‘ کی تیار کردہ اس تھراپی میں جین میں ترمیم کرنے والے آلات کو جگر کے خلیوں تک پہنچانے کے لیے چربی کے انتہائی چھوٹے ذرات استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی ایم آر این اے ویکسینز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے ملتی جلتی ہے۔

جسم کے اندر ہی ڈی این اے میں ترمیم کرنے سے مریض کے خلیے نکالنے، لیبارٹری میں ان میں تبدیلی کرنے اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں داخل کرنے کے مہنگے اور خطرات سے بھرپور عمل سے بچایا جا سکتا ہے۔

خلیوں میں ترمیم کے روایتی طریقہ کار میں اکثر مریضوں کو سخت کیموتھراپی سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ جسم میں ترمیم شدہ خلیوں کے جگہ بنانے اور قائم رہنے کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مالیاتی ادارے ٹی ڈی کوون کے بایوٹیکنالوجی تجزیہ کار جوزف تھومے نے کہا ’ان جینیاتی ادویات کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کو مالی معاونت فراہم کرنا سستا کام نہیں۔‘

انہوں نے نشاندہی کی کہ جسم کے اندر براہِ راست علاج کرنے سے پیداواری لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ان طریقہ ہائے علاج کو زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جسم کے اندر جین میں ترمیم کے اپنے مسائل بھی ہیں کیونکہ خلیوں کے تقسیم ہو کر اپنی تعداد بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ ڈی این اے میں کی جانے والی تبدیلیاں مکمل طور پر درست ہیں۔

یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے بایومیڈیکل انجینیئر کرشانو ساہا نے کہا ’اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس نوعیت کے خطرات قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جین میں ترمیم کرنے والے آلات کو جسم کے مخصوص اعضا تک درست طور پر پہنچانا ’بنیادی چیلنج‘ ہے۔

توقع ہے کہ پرائم میڈیسن اگلے سال اس طبی آزمائش کے ابتدائی نتائج پیش کرے گی۔ اسی دوران جسم کے اندر ہی کرسپر ٹیکنالوجی کے ذریعے جین میں ترمیم کے دیگر طریقہ ہائے علاج کے بارے میں بھی فیصلے متوقع ہیں، جو اس وقت ضابطہ جاتی منظوری کے منتظر ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *