پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعے کو کہا ہے کہ گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران ایک خاتون سمیت 10 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک شہری جان سے گیا اور چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 22 اکتوبر کو انڈین سرپرستی میں سرگرم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے ضلع گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں ’دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔‘
جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کی حفاظت اور علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے گوادر شہر اور اس کے گرد و نواح میں کلیئرنس آپریشنز کیے۔
مختلف جھڑپوں کے دوران 10 عسکریت مارے گئے، جبکہ کارروائیاں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کے بغیر مکمل ہوئیں اور علاقے میں ریاستی عمل داری بحال کر دی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان کے مطابق عسکریت پسندوں نے ان مقامات کو نشانہ بنا کر ان لوگوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ ان کا مقصد بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ حملے میں ایک بلوچ خاتون کو استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت کے خلاف جرم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند خواتین کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو بلوچ اور اسلامی روایات کے منافی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی اور سکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
