کیا برفانی تیندوا بھی ڈائنوسار کی طرح صرف تصویروں میں رہ جائے گا؟

پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں پائے جانے والے نایاب برفانی چیتے یا تیندوے کی بقا کو غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث خطرات لاحق ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ملک بھر میں اس جانور کی تعداد تقریباً 168 رہ گئی ہے، جس کے تحفظ کے لیے مقامی آبادی کا تعاون ناگزیر ہے۔

ہر سال 23 اکتوبر کو برفانی تیندوے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے خیبرپختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کے کنزرویٹر محمد حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اگر برفانی تیندوے کے تحفظ پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں اسے بھی ڈائنوسار کی طرح صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

محمد حسین نے بتایا کہ دنیا بھر میں اس نایاب جانور کی تعداد کا تخمینہ چار سے ساڑھے چھ ہزار کے درمیان ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں 24 سے 32 برفانی تیندوے پائے جاتے ہیں۔

مویشیوں پر حملوں کے بعد زہر دینے، غیر قانونی شکار، قدرتی مسکن میں انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل اس جانور کی بقا کے لیے چیلنج ہیں اور ’عالمی یومِ برفانی چیتا‘ اسی نایاب جانور کے تحفظ اور اس کے مسکن کو درپیش خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں برفانی تیندوا کہاں پایا جاتا ہے؟

پاکستان میں برفانی تیندوے کا مسکن صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں۔ یہ ملک کے شمالی حصوں میں ہندوکش، قراقرم، پامیر اور ہمالیہ کے بعض پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

اس کے مسکن میں خیبر پختونخوا کے چترال اور کوہستان کے پہاڑی علاقے، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ حصے شامل ہیں۔

چترال ہندوکش کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے، جہاں بلند پہاڑ اور دشوار گزار وادیاں برفانی تیندوے کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں۔

گلگت بلتستان میں قراقرم اور پامیر کے پہاڑی علاقے اس کے اہم مسکن ہیں۔ خنجراب، شمشال، چپورسن اور بروغل سمیت شمالی علاقوں کے متعدد مقامات پر اس کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادیٔ نیلم اور ہمالیہ سے ملحقہ پہاڑی علاقے بھی اس کے مسکن میں شامل ہیں۔

تاہم ان تمام علاقوں میں برفانی چیتوں کی تعداد یکساں نہیں۔ اس جانور کا وسیع اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہنا اس کی درست تعداد کا اندازہ لگانے کو بھی مشکل بناتا ہے۔

مویشیوں کے شکار کے بعد زہر دینے کا خطرہ

برفانی تیندوے کو درپیش خطرات میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم بھی شامل ہے۔

جب یہ جانور مویشیوں کا شکار کرتا ہے تو بعض اوقات مقامی باشندے نقصان کے ردعمل میں مویشیوں کی باقیات میں زہر ملا دیتے ہیں۔

محمد حسین نے اس خطرے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جب برفانی تیندوا مویشیوں کا شکار کرتا ہے تو بعض لوگ مویشیوں کی باقیات میں زہر ملا دیتے ہیں۔ ایسی باقیات کھانے سے برفانی تیندوا بھی مر سکتا ہے۔‘

ان پہاڑی علاقوں میں بہت سے خاندان مویشی پالنے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے مویشیوں کا نقصان ان کے لیے معاشی مسئلہ بن سکتا ہے۔

ایسے حالات میں مقامی آبادی کے خدشات کو دور کرنا اور جنگلی جانور کو نقصان پہنچانے سے روکنا تحفظ کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔

قدرتی مسکن اور موسمیاتی تبدیلی کا دباؤ

برفانی تیندوے کی بقا کے لیے موزوں پہاڑی مسکن، قدرتی شکار کی دستیابی اور مختلف علاقوں کے درمیان نقل و حرکت کے راستے اہم ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر، آبادیوں کا پھیلاؤ اور دیگر ترقیاتی سرگرمیاں بعض مقامات پر اس کے مسکن کو متاثر یا تقسیم کر سکتی ہیں۔

اسی طرح غیر قانونی شکار سے اس کے قدرتی شکار کی تعداد میں کمی بھی خوراک کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی بھی اس کے پہاڑی ماحول کے لیے ایک چیلنج ہے۔ درجۂ حرارت اور بارش کے انداز میں تبدیلی، برف اور گلیشیئرز سے جڑے ماحول میں ردوبدل اور قدرتی مسکن کی کیفیت میں تبدیلی جنگلی حیات کے لیے حالات بدل سکتی ہے۔

ان اثرات کی نوعیت اور شدت مختلف علاقوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔

برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے اقدامات؟

محمد حسین کے مطابق برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے مقامی آبادی کا تعاون ضروری ہے کیونکہ یہ جانور ان علاقوں میں رہتا ہے، جہاں لوگ مویشی پالتے اور قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

مویشیوں کے نقصان سے متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنا اور ایسے واقعات کے بعد جنگلی جانور کو مارنے یا زہر دینے سے روکنا اس سلسلے میں اہم ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مویشیوں کی ویکسینیشن، نقصان کی تلافی یا انشورنس جیسے اقدامات سے مقامی آبادی کے مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

لوگوں کو ایسے واقعات کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے اور خود سے زہر استعمال کرنے کے بجائے محکمۂ جنگلی حیات سے رابطہ کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔

برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے صرف انفرادی جانوروں کی نگرانی کافی نہیں، بلکہ اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور اس کے قدرتی شکار کی دستیابی بھی اہم ہے۔

ان کوششوں میں مقامی آبادی کو شامل کیے بغیر دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

محمد حسین کی جانب سے ڈائنوسار کی مثال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی نوع کے تحفظ کو نظرانداز کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

تاہم برفانی تیندوے کے مستقبل کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے اس کی آبادی مسکن اور اسے درپیش خطرات کی نگرانی اور تحفظ کے اقدامات کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *