میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد ان کے والد نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ‘جے آئی ٹی’ سے انصاف کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی ادارے سے تصادم نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی موت کی حقیقت سامنے لانا ہے۔
دوسری جانب، جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کے طریقۂ کار، شواہد کے تحفظ اور موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں اور مقدمے کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے سمیت متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔
میر رضا علی کے والد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ خودکشی نہیں ہے، پہلے دن سے ہی واضح تھا، بس بات یہ ہے کہ یہاں کے نظام میں اسے ثابت کرتے کرتے ہمیں 54 دن لگ گئے۔‘
’پولیس نے اپنا کام نہیں کیا‘
میر رضا علی کے والد میر حسین نے پولیس کی ابتدائی تفتیش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول، پہلے تفتیشی ٹیم کے مؤقف کو بعد میں آنے والی ٹیم نے بھی برقرار رکھا۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ : ’پہلے ٹیم کا جو مؤقف تھا، دوسری ٹیم بھی اسی مؤقف پر چلتی رہی۔ امید ہے کہ جے آئی ٹی سے نتائج سامنے آئیں گے، کیونکہ پولیس نے کام نہیں کیا۔‘
والد نے مزید کہا کہ وہ شروع سے پولیس کی تفتیش پر اعتراضات اٹھاتے رہے، انہیں امید ہے کہ جے آئی ٹی ان سوالات کا جواب دے گی جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ پہلے جامع تحقیقات نہیں ہوئیں۔
کمیشن کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، میر رضا علی کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے تفتیش میں سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں پولیس کے ابتدائی مؤقف اور میڈیکو لیگل شواہد کے درمیان تضادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کی ایگزیکٹو سمری کے مطابق، پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دینے کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ ڈاکٹر اسامہ شیخ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پہلی رپورٹ کے بعض مشاہدات سے اختلاف کیا گیا۔
کمیشن نے حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پشت سے لگنے والی گولی کے زخم کو موت کی وجہ قرار دیے جانے کا ذکر بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں ابتدائی تفتیش کے دوران ممکنہ طور پر شواہد متاثر ہونے یا معاملے کو دبانے کے خدشے کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ تاہم، ان مشاہدات کو قتل کے تمام پہلوؤں یا کسی مخصوص شخص کے جرم کا حتمی عدالتی تعین نہیں سمجھا جا سکتا۔
والد کو جے آئی ٹی سے کیا توقع ہے؟
میر رضا علی کے والد نے جے آئی ٹی میں مختلف تحقیقاتی اور سکیورٹی اداروں کی شمولیت کو امید بہتر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں پولیس کی ابتدائی تفتیش میں جو سوالات حل نہیں ہوئے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ان کا جواب تلاش کر سکتی ہے۔
میر حسین کے مطابق، مقدمے میں پہلے ہی کافی وقت گزر چکا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مزید تاخیر کے بغیر تحقیقات مکمل کی جائیں۔
کمیشن کی سفارشات
جوڈیشل کمیشن نے مقدمے کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔ مجوزہ ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ، پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے اور قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ سفارشات کمیشن کی رپورٹ کا حصہ ہیں؛ ان پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی حتمی تشکیل سے متعلق سرکاری فیصلوں کی تصدیق الگ سے ضروری ہے۔
’ہم نے اپنے بچے کو دوبارہ تکلیف دی‘
میر رضا علی کے والد میر حسین نے دوبارہ قبر کشائی کے تجربے کو خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: ’ہم قبر کشائی نہیں کروانا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچے کو پہلے ہی بہت تکلیف دی ہے۔ اس کے ساتھ جو تشدد ہوا، تیزاب کے استعمال اور جس حالت میں اس کی لاش تھی، اس سب کے بعد ہم نے دوبارہ قبر کشائی کروائی۔ اس طرح ہم نے اپنے بچے کو دوبارہ تکلیف دی۔‘
انہوں نے کہا کہ بیٹے کی موت کے بعد انہیں نیند نہیں آتی اور وہ مسلسل ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔
ان کے بقول: ’جس دن ملزم پکڑا جائے گا، اس دن ہمیں کچھ سکون ملے گا، شاید ہم تھوڑا سا سو بھی سکیں۔ نیند نہیں آتی، ایسا لگتا ہے جیسے بچہ آواز دے رہا ہو۔‘
’وہ میرا اکلوتا بیٹا اور گھر کا سہارا تھا‘
میر رضا علی کے والد میر حسین کے مطابق، ان کا بیٹا 26 سال کا تھا، پڑھا لکھا تھا، کاروبار کرتا تھا اور خاندان کا سہارا تھا۔
انہوں نے کہا: ’وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بہت مضبوط اور محنتی بچہ تھا۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟‘
میر حسین نے کہا کہ خاندان کی جدوجہد کا مقصد کسی ادارے یا فرد سے لڑائی کرنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہمارا مقصد اپنے بچے کے لیے انصاف حاصل کرنا ہے۔ ہماری کسی ادارے یا کسی فرد کے ساتھ جنگ نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کی موت کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے حکومتی کمیٹی کا اجلاس
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت کی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس 21 اکتوبر کو وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس میں وزیر بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ناصر حسین شاہ، وزیر محنت و انسانی وسائل سعید غنی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن شریک ہوئے۔
اجلاس میں رپورٹ کے نتائج، سفارشات اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر مشاورت کی گئی۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے مطابق، ذیلی کمیٹی اپنی سفارشات جلد از جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔
تاحال فراہم کردہ تفصیلات میں کمیٹی کی جانب سے سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا عملی پیش رفت کی مکمل تفصیل شامل نہیں ہے۔
میر رضا علی کے والد نے کہا ہے کہ انہیں نئی جے آئی ٹی سے انصاف کی امید ہے۔ دوسری جانب، کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد، مزید تحقیقات کے نتائج اور مقدمے میں قانونی کارروائی آئندہ پیش رفت کے اہم مراحل ہوں گے۔
