ڈیپ سیک پر امریکی پابندی، چینی اے آئی کمپنی سے متعلق 5 دلچسپ حقائق

امریکہ کے محکمہ داخلی سلامتی نے پیر کو سرکاری اداروں کو چینی کمپنی ڈیپ سیک (DeepSeek)  کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ صارفین کا ڈیٹا چین منتقل ہونے سے متعلق خدشات بتائے گئے ہیں۔

نئی پابندیوں کے بعد چین کی اس مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے بارے میں پانچ اہم باتیں درج ذیل ہیں۔

سپوتنک لمحہ

ڈیپ سیک کی بنیاد لیانگ وین فینگ نے2023  میں چین کے مشرقی ٹیکنالوجی مرکز ہانگژو میں رکھی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ابتدا میں یہ لیانگ کے ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری کرنے والے ہیج فنڈ کا ایک ضمنی منصوبہ تھا، جسے امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا (Nvidia)  کے تیار کردہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز کی ایک بڑی تعداد تک رسائی حاصل تھی۔

ڈیپ سیک نے جنوری 2025  میں اپنا جدید صلاحیتوں کا حامل آر ون (R1)  لارج لینگویج ماڈل متعارف کرایا، جس کے بعد اسے عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو گئی۔

مصنوعی ذہانت کی صنعت سے وابستہ ماہرین آر ون کی بہترین کارکردگی دیکھ کر حیران رہ گئے، جو چیٹ جی پی ٹی اور دیگر معروف امریکی چیٹ بوٹس کے تقریباً برابر تھی۔

ڈیپ سیک کے اس دعوے نے بھی توجہ حاصل کی کہ اس نے یہ ماڈل اپنے امریکی حریفوں کے مقابلے میں کہیں کم لاگت سے تیار کیا ہے۔

سرمایہ کار مارک اینڈریسن نے اس پیش رفت کو ’سپوتنک لمحہ‘  قرار دیا۔

یہ اصطلاح 1957  میں سوویت یونین کی جانب سے دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپوتنک خلا میں بھیجنے کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس نے مغربی دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

سنسرشپ سے متعلق خدشات

دیگر چینی چیٹ بوٹس کی طرح ڈیپ سیک کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز بھی ایسے موضوعات پر گفتگو سے گریز کرتے ہیں جنہیں دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں عموماً سنسر کیا جاتا ہے۔

ان میں 1989 میں تیانانمن سکوائر پر ہونے والا حکومتی کریک ڈاؤن بھی شامل ہے۔

سنسرشپ اور ڈیٹا کی رازداری سے متعلق انہی خدشات کے باعث امریکہ، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں سرکاری آلات پر ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی یا مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

پیر کو امریکہ نے پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے شہری نوعیت کے سرکاری اداروں کو ڈیپ سیک کی تیار کردہ مصنوعات کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بنائے گئے دیگر کمپنیوں کے ٹولز کے استعمال سے بھی روک دیا۔

چین کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ پر قومی سلامتی کے تصور کو ’ضرورت سے زیادہ وسیع‘  کرنے کا الزام عائد کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کم لاگت اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے جانے کی خصوصیات نے ڈیپ سیک کو ترقی پذیر ممالک میں ایک مقبول انتخاب بنا دیا ہے۔

ویب ٹریفک کا تجزیہ کرنے والی کمپنی سمیلر ویب (Similarweb) کے مطابق عالمی چیٹ بوٹ مارکیٹ میں ڈیپ سیک کا حصہ تقریباً چار فیصد ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی68  فیصد حصے کے ساتھ اس مارکیٹ میں نمایاں برتری رکھتا ہے۔

اوپن سورس ٹیکنالوجی

ڈیپ سیک کے نظام اوپن سورس ہیں، یعنی ان کے اندرونی تکنیکی طریقہ کار کی تفصیلات عوامی طور پر دستیاب ہیں، جس سے پروگرامرز اپنی ضروریات کے مطابق سافٹ ویئر کے بعض حصوں میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔

چین کی دیگر بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں، بشمول ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا، کا طریقہ کار بھی اسی نوعیت کا ہے۔

اس کے برعکس اوپن اے آئی اور دیگر مغربی حریف کمپنیاں ایسے ماڈلز فراہم کرتی ہیں جن کے اندرونی نظام مکمل طور پر عوامی رسائی میں نہیں ہوتے۔

چینی حکومت اوپن سورس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں اپنی برتری کو نمایاں کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جدت اور نئی ایجادات کی رفتار تیز کر سکتی ہے۔

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان لو چن جیان نے اپریل میں پالیسی سازوں سے کہا تھا ’چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اوپن سورس جدت کے نظام میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

چینی اے آئی کمپنیوں کو فروغ

ڈیپ سیک کی کامیابی نے چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں نئی جان ڈال دی ہے، حالانکہ امریکہ کے ساتھ مسابقت اور عالمی منڈی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کا غیر پائیدار بلبلہ بننے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔

رواں سال ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹ میں پہلی مرتبہ حصص پیش کرنے پر چین کی دو نمایاں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں ژیپو اے آئی (Zhipu AI) اور منی میکس (MiniMax) کے حصص کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

چینی چپ ساز کمپنیوں، جن میں میٹا ایکس (MetaX) بھی شامل ہے، کے حصص میں بھی اسی طرح کی تیزی دیکھی گئی۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جون میں ڈیپ سیک کی سرمایہ حاصل کرنے کی پہلی مہم کے دوران سرمایہ کاروں نے کمپنی کی مالیت 50 ارب ڈالر سے زیادہ لگائی۔

بیجنگ میں قائم سرمایہ کاری کمپنی جن چیو کیپیٹل (Jinqiu Capital) کی شی یاقیونگ اور ان کی ٹیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈیپ سیک کی غیر متوقع کامیابی کے بعد چینی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور ان کے درمیان مسابقت میں ’واضح اضافہ‘ ہوا ہے۔

چپس کی سمگلنگ سے متعلق رپورٹس

ڈیپ سیک کی تیز رفتار ترقی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔

ٹیکنالوجی سے متعلق ادارے دی انفارمیشن (The Information)  سمیت مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیپ سیک اپنے نئے وی فور  (V4)  ماڈل کی تربیت کے لیے جدید ترین چپس چین برآمد کرنے پر عائد امریکی پابندیوں سے بچنے کے طریقے اختیار کر رہی ہے۔

دی انفارمیشن نے دسمبر میں اس معاملے سے واقف چھ افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ڈیپ سیک نے وی فور ماڈل کی تیاری میں ایسی ہزاروں چپس استعمال کیں جنہیں دوسرے ممالک میں آلات سے نکال کر چین سمگل کیا گیا تھا۔

اس وقت ڈیپ سیک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے مؤقف طلب کیے جانے پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این ویڈیا نے بھی اے ایف پی کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم دی انفارمیشن کو بتایا تھا کہ اسے اس نوعیت کی سمگلنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور ’ایسی سمگلنگ کا دعویٰ بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔‘

اپریل میں ڈیپ سیک نے بتایا تھا کہ اس نے اپنے نئے ماڈل کے لیے این ویڈیا کی چپس کے ساتھ چینی کمپنی ہواوے کی مقامی طور پر تیار کردہ اسینڈ (Ascend)  چپس بھی استعمال کی ہیں۔

امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی چینی کوششوں میں پیش پیش کمپنی ہواوے نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی اسینڈ مصنوعات کی پوری رینج ڈیپ سیک کی وی فور سیریز کو سپورٹ کرتی ہے۔

امریکہ مطابق ڈیپ سیک کا تازہ ترین ماڈل امریکی کمپنیوں کے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے مقابلے میں تقریباً آٹھ ماہ پیچھے ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *