مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعے کو اسرائیلی آباد کاروں نے امریکی اخبار دا واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ پر اس وقت حملہ کر دیا جب وہ فلسطینی زیتون کے کسانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی کوریج کر رہی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق حملے کے بعد معروف فوٹوگرافر ہیڈی لیوین کو رام اللہ کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تصویروں میں انہیں ٹانگ اور ہاتھ پر زخموں کے ساتھ سٹریچر پر لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو، جو چند دن بعد ہونے والے انتخابات میں آباد کاروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے دفتر نے اصرار کیا کہ اس واقعے کے محرکات غیر واضح ہیں، جب کہ اس کے برعکس ان کے سب سے بڑے حریف نے اس کی بھرپور مذمت کی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب 10 دن قبل بھی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں زیتون کی فصل اتارنے کی کوریج کرنے والے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد انہیں بھی ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑی۔
ہسپتال کے بستر سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہیڈی لیوین نے کہا کہ جب وہ وسطی مغربی کنارے میں ابو فلاح اور ترمسعیا کے فلسطینی گاؤں کے قریب کام کر رہی تھیں تو لاٹھیاں پکڑے ’50 سے زائد‘ نقاب پوش آباد کاروں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔
انہوں نے کہا: ’اچانک انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے میں نے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی، میں نے اپنا چہرہ بچانے کی کوشش میں اسے زمین کی طرف کیے رکھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ بس مجھے مسلسل لاتیں مارتے رہے۔‘
رام اللہ میں ابتدائی طبی امداد کے بعد، ہیڈی لیوین کو پیتاہ تکوا میں اسرائیل کے بیلن سن ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ چکے ہیں اور انہیں سرجری کی ضرورت ہوگی۔
دی واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ ہیڈی لیوین نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی، جس پر واضح طور پر ’پریس‘ لکھا ہوا تھا۔
اخبار کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر میٹ مرے نے ایک بیان میں کہا: ’ہم اپنا کام کرنے والی ایک صحافی پر اس بلاجواز حملے پر شدید برہم ہیں اور حکام سے اس کی مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
روئٹرز کے مطابق جمعے کو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک گاؤں کی فصل کی کٹائی کے دوران سیاہ لباس پہنے اور چہروں پر نقاب ڈالے درجنوں شدت پسند اسرائیلی آباد کاروں نے زیتون کے درخت جلا دیے اور فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا، جس میں ایک صحافی سمیت کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، تقریباً 80 آباد کار، جن میں سے کچھ کے پاس گیس کے کنستر تھے، ایک پہاڑی سے نیچے اس سیڑھی نما زیتون کے باغ میں اترے جہاں ابو فلاح کے دیہاتی پکے ہوئے پھل توڑنے کے لیے جمع تھے، جو فلسطینیوں کی زندگی کی ایک معروف سالانہ روایت ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آباد کاروں نے زیتون کے درختوں کی سیڑھی نما قطاروں کے سامنے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ان میں سے کچھ نے غلیلوں کی مدد سے فلسطینی دیہاتیوں پر پتھراؤ کیا، جو اپنے دفاع میں پتھر اٹھا کر پھینکنے سے قبل پہاڑی کی تلہٹی کی طرف اترے تھے۔
ابو فلاح میں اس حملے کے چشم دید گواہ، 42 سالہ کسان معتز عبد الہادی نے کہا کہ ’آباد کار ہم پر حملہ کر کے ہمیں ہمارے گھروں سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔‘
حملے کے دوران ہی اسرائیلی فوج کی کم از کم دو جیپیں دھول اڑاتی ہوئی تیزی سے علاقے سے گزریں، جبکہ دیہاتی اپنی جان بچانے کے لیے ان کے راستے سے ہٹ گئے۔
فوج کی آمد کے بعد بھی یہ حملہ جاری رہا اور اسرائیلی فوجیوں نے ان فلسطینیوں کی جانب آنسو گیس کے گولے فائر کیے جو جیپوں کی زد میں آنے سے بچ گئے تھے۔ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں اور ایک فوٹوگرافر نے کم از کم ایک مسلح آباد کار کو گولی چلاتے دیکھا۔
دوسری جانب امریکہ نے جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ’کسی بھی فریق کی جانب سے مجرمانہ تشدد‘ کی مذمت کی۔
محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، آباد کاروں پر براہ راست تنقید کیے بغیر کہا کہ ’ہم مغربی کنارے میں کسی بھی فریق کی جانب سے مجرمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور مناسب تحقیقات کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے قانونی احتساب کی حمایت کرتے ہیں۔‘
