میں نے سکائی نیوز یوکے کی یلدا حکیم کا حوثی ملیشیا کے ایک سینیئر ترجمان محمد البخیتی کے ساتھ شان دار انٹرویو دیکھا۔
میں اسے شان دار اس لیے کہتا ہوں کیونکہ یلدا حکیم، جو ایک معروف صحافی ہیں اور جنہیں میری توثیق کی ضرورت نہیں، پوری گفتگو کے دوران غیر جانب دار، متوازن اور پیشہ ور رہیں۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے محمد البخیتی کے لیے خود کو بے نقاب کرنے اور اس شیطانی گروہ کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کا دروازہ پوری طرح کھلا چھوڑ دیا، جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔
عربی میں ایک کہاوت کا مفہوم ہے کہ ’عذر گناہ سے بھی بدتر ہوتا ہے‘ اور یہ کہاوت شاید ہی کسی اور موقعے پر اتنی موزوں ہو جتنی البخیتی کے ان جوابات پر، جو انہوں نے حکیم کے اس سوال کے جواب میں دیے کہ ایک ایسا گروہ جو جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ’انصار اللہ‘ یعنی ’اللہ کا مددگار‘ ہے، وہ سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک شہری ہوائی اڈے، مقدس مقامات اور زائرین کو کیوں نشانہ بناتا ہے۔
اس دہشت گرد تنظیم کے ترجمان نے جواب دیا: ’سعودی عرب نے ان ہوائی اڈوں پر کارروائیاں بند کیوں نہیں کیں؟ انہوں نے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں کیوں ڈالا؟‘
یہی حوثیوں کی منافقانہ حقیقت ہے۔
وہ مذہب کو ایک پردے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ان کے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہوں تو انہیں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں یا کسی شہری ہوائی اڈے پر موجود زائرین کو نشانہ بنانے میں کوئی عار نہیں ہوتی۔
وہ خود مجرم ہیں لیکن الزام متاثرہ فریق پر ڈالتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے کوئی زیادتی کرنے والا شخص یہ کہے کہ اگر اس کا نشانہ بننے والا فرد نمایاں لباس نہ پہنتا تو وہ ہدف نہ بنتا۔
سوال یلدا حکیم سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان نشریاتی اداروں سے ہونا چاہیے، جنہوں نے اس حملے کی کوریج اسی طرح نہیں کی جس طرح وہ کرتے اگر کسی دہشت گرد گروہ نے جے ایف کے، ایل اے ایکس یا ہیتھرو ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہوتا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب ان سے مزید سوالات کیے گئے تو انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل جنگ شروع کرنے کا قصور سعودی عرب کا ہے۔ جیسا کہ آپ ایک ایرانی حکومت کے کٹھ پتلی کردار سے توقع کر سکتے ہیں، انہوں نے جان بوجھ کر اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ ان کے گروہ نے یمن کی جائز حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور سعودی کوششیں ایک بین الاقوامی اتحاد کا حصہ تھیں جس کا مقصد ایک ایسے ملک میں آئینی اور قانونی حکومت کو بحال کرنا تھا، جسے وہ اور ان کے سرپرست بھوک، غربت اور تباہی کے حوالے کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ چند ماہ پہلے تک ان کے قائدین خوشی خوشی سعودی عرب کے ساتھ رابطوں میں مصروف تھے، جب یہ ان کے مفاد میں تھا اور جب انہیں لگتا تھا کہ وہ مستقبل کی حکومت کا حصہ بن سکیں گے۔
تاہم لبنان میں حزب اللہ کی طرح، جب آپ تہران کے شیطانی نظام کے ہاتھ اپنی روح فروخت کر دیتے ہیں تو پھر آپ اپنے ہر غلط کام کو مقصد کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، چاہے وہ مقصد درحقیقت کسی اور کے مفادات کی مدد ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔
ایک سعودی کی حیثیت سے میں اس تنازعے میں ضائع ہونے والی ہر بے گناہ جان پر رنجیدہ ہوں۔ ہر ضائع ہونے والی جان ایک نہیں بہت زیادہ ہے، لیکن اسی وقت مجھے خوشی ہے کہ پوری دنیا اس شیطانی ملیشیا کی حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
اسی لیے میں ان لوگوں سے اختلاف کرتا ہوں جنہوں نے محمد البخیتی کو پلیٹ فارم دینے پر سکائی نیوز یوکے اور یلدا حکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک اخباری مدیر کی حیثیت سے میں اس مؤقف سے واقف ہوں جو ایسی مشق کے خلاف پیش کیا جاتا ہے اور لندن میں صحافتی تربیت حاصل کرنے والے ایک پیشہ ور کے طور پر میں ان پابندیوں سے بھی آگاہ ہوں، جو ایک وقت میں بی بی سی اور دیگر اداروں نے آئی آر اے کو پلیٹ فارم دینے کے حوالے سے عائد کی تھیں۔
تاہم جب میں مقامی سوشل میڈیا پر پوسٹس پڑھتا ہوں تو میں یہ دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ لوگ دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ عالمی غم و غصہ کہاں ہے، اور دوسرے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ سکائی نیوز یوکے کو حوثیوں سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں کر سکتے۔
میں تو یلدا حکیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسے ہولناک دہشت گرد حملے کی طرف توجہ دلائی جس کا نشانہ ایک شہری ہوائی اڈہ بنا جبکہ دیگر بین الاقوامی نیوز چینلز نے اسے سرسری طور پر رپورٹ کیا۔
یلدا حکیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے بلکہ ان نشریاتی اداروں سے پوچھا جانا چاہیے، جنہوں نے اس حملے کو اسی توجہ کے ساتھ کور نہیں کیا جس طرح وہ کرتے اگر کسی دہشت گرد گروہ نے جے ایف کے، ایل اے ایکس یا ہیتھرو ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہوتا۔
فیصل جے عباس عرب نیوز کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔
