امریکہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ جمعرات کو ریاست اوریگون کے شہر بینڈ کے ایک ایلیمنٹری سکول میں 16 سالہ حملہ آور نے فائرنگ کر کے تین بچوں سمیت چار افراد کو جان سے مار دیا۔
بعد ازاں سکول کے اندر تک حملہ آور کا پیچھا کرنے والے ایک مقامی مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور بھی مارا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ حملہ آور بند دروازوں پر فائرنگ کر کے سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں داخل ہوا، تاہم پولیس نے مشتبہ شخص کی عمر کے علاوہ کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
بینڈ پولیس کے چیف مائیک کرانٹز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جان سے جانے والوں میں پانچ، آٹھ اور 11 سال کی عمر کے بچے اور ایک استاد شامل ہیں جبکہ ایک سات سالہ طالب علم اور ایک 54 سالہ استاد کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اسی بریفنگ میں شریک اوریگون کی گورنر ٹینا کوٹیک نے اس مقامی شخص کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ’مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے بہادری سے مداخلت کی۔‘
ٹینا کوٹیک نے کہا کہ ’کسی بھی والدین کو ایسے دن کا سامنا نہیں کرنا چاہیے اور کسی بھی کمیونٹی کو اس طرح کے دن سے نہیں گزرنا چاہیے۔ جیسے جیسے ہمیں مرنے اور زخمی ہونے والے بچوں اور بڑوں، ان کے خاندانوں اور ان کے پیاروں کے بارے میں مزید معلوم ہوگا، ہم بہت روئیں گے اور ہم مل کر روئیں گے، اور شاید ہم اکیلے میں بھی روئیں گے۔‘
پولیس چیف مائیک کرانٹز نے بتایا کہ اس مقامی شخص نے، جن کی انہوں نے شناخت ظاہر نہیں کی، مشتبہ شخص کو سکول میں داخل ہوتے دیکھا اور اس کا پیچھا کیا۔
اے ایف پی کے مطابق پولیس کی ترجمان شیلا ملر نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ جب اہلکار موقعے پر پہنچے تو حملہ آور ’مارا جا چکا تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید بتایا: ’ہمارے پاس ابھی تک اس شخص کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوئی جنہوں نے مشتبہ شخص پر گولی چلائی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی راہ گیر ہو۔‘
شیلا ملر کے مطابق امدادی کارکنوں نے ’کم از کم دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا ہے۔ ہمیں ان کی حالت کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔‘
اسلحے کے استعمال سے ہونے والا تشدد امریکہ میں روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں آبادی سے زیادہ اسلحہ موجود ہے، اور تمام ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں یہاں اسلحے سے ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
سکولوں میں فائرنگ امریکہ کا ایک معمول بن چکا ہے، جن میں 1999 میں کولمبائن ہائی سکول، 2012 میں سینڈی ہک ایلیمنٹری سکول، 2018 میں مارجوری سٹون مین ڈگلس ہائی سکول اور 2022 میں ٹیکساس کے شہر یوالڈے میں روب ایلیمنٹری سکول میں ہونے والے ہائی پروفائل حملے شامل ہیں۔
فائرنگ کے ان واقعات کو روکنے میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اب تک ناکام رہی ہیں کیونکہ بہت سے امریکی آئین میں درج اسلحہ رکھنے کے حق سے انتہائی لگاؤ رکھتے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم گن وائلنس آرکائیو کے مطابق 2025 میں خودکشیوں کے علاوہ اسلحے سے تقریباً 15000 لوگوں کی جان گئی۔
