آذربائیجان: سکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج، 37  افراد گرفتار

آذربائیجان میں سکولوں میں حجاب پر پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے 37 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے جبکہ پیر کو ملک بھر میں صارفین کو سوشل میڈیا تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رواں برس 21 ستمبر کو آذربائیجان نے سرکاری سکولوں میں یونیفارم سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت صریح طور پر حجاب کا ذکر کیے بغیر ایسے اضافی لباس پر پابندی عائد کی گئی جو مقررہ یونیفارم یا تعلیم کے سیکولر اصولوں کے منافی ہو۔

آذربائیجان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی اے کے مطابق تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے یونیفارم میں ترمیم کا مقصد ایک ایسے یکساں ڈریس کوڈ کو یقینی بنانا ہے جو ملک کے ’سیکولر اصول‘ کی عکاسی کرے۔

آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی خود کو مسلمان کے طور پر شناخت کرتی ہے۔ اس کا آئین ملک کو سیکولر کے طور پر تعریف کرتا ہے اور ساتھ ہی مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔

حالیہ ترامیم کے بعد آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکے جانے کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ طالب علموں نے پیر کو حجاب پر پابندی کے خلاف سکولوں کے باہر مظاہرہ کیا اور ان لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا جنہیں مبینہ طور پر حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے روکا گیا تھا۔

احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں طالبات کو سکولوں کے دروازوں کے باہر جمع ہوتے اور کلاسوں میں جانے سے انکار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مطالبہ ہے کہ حجاب پہننے والی لڑکیوں کو دوبارہ کلاسوں میں آنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ کا الزام ہے کہ باکو میں لوگوں نے یونیفارم کے معاملے پر سکول کے ملازمین سے بدسلوکی کی، سکولوں کو نقصان پہنچایا اور کلاسوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اے پی اپے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے پر مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

آذربائیجان کی ایک اور نیوز ایجنسی آذر نیوز نے بھی احتجاج کے دوران 37 گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

اسی احتجاج کے دوران ملک بھر میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے صارفین نے شکایت کی کہ ویڈیوز لوڈ نہیں ہو رہی تھیں اور فیڈز ریفریش نہیں ہو رہی تھیں، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ وہ صرف وی پی این کے ذریعے ہی ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر پا رہے تھے۔

بعض صارفین نے تجویز دی کہ یہ خلل سکولوں کے احتجاج پر مبنی ویڈیوز کے پھیلنے سے جڑا ہوا ہے۔

توانائی کے وسائل سے مالا مال آذربائیجان سوویت دورِ حکومت کے دہائیوں بعد مسلم دنیا کی سب سے زیادہ سیکولر ریاستوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا۔

حکام نے ملک میں مذہبی عبادات پر پابندیاں عائد کی ہیں اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے تحت انتہا پسندوں کو گرفتار کیا ہے، اگرچہ ناقدین ان پر باعمل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔

آذربائیجان میں عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں ہیں، جہاں صدر الہام علیوف کی حکومت کو سیاسی مخالفین اور آزاد میڈیا کے ساتھ اپنے رویے پر مغربی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *