ملتان: بائیو گیس پلانٹ سے چار گھروں کا چولہا کیسے جل رہا ہے؟

پاکستان میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور ایل پی جی سلینڈرز کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے اس دور میں ملتان کے نواحی علاقے موضع بستی کام والی کے رہائشی محمد رمضان نے اپنے گھر میں ایک ایسا بائیو گیس پلانٹ نصب کیا ہے جو دیہی علاقوں کے لیے ایک شاندار مثال بن گیا۔ 

محمد رمضان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے ملک میں ہوا بہت زیادہ آلودہ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

’پہلے لوگ آگ جلانے کے لیے اندھا دھند درخت کاٹتے تھے جس سے علاقے کی قدرتی خوبصورتی ضائع ہو رہی تھی، اسی لیے انہوں نے سوچا کہ جب اپنے جانور اور ان کا گوبر موجود ہے تو کیوں نہ کوئی ایسا ماحول دوست کام کیا جائے جس سے درخت بھی بچیں اور کچن بھی چلتا رہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بائیوگیس پلانٹ کی تیاری پر ان کا تقریباً تین سے سوا تین لاکھ روپے خرچہ آیا ہے، جس کا نقشہ اور ڈیزائن انہوں نے خود کر تیار کیا اور پھر مستری کو گائیڈ کر کے کنواں اور حوض بنوائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلانٹ کو چلانے کے لیے روزانہ صبح جانوروں کا گوبر اکٹھا کر کے ہاتھ والی دو سے تین ٹرالیاں ایک چھوٹے حوض میں ڈالی جاتی ہیں اور پھر پانی کے ساتھ ایک دستی چکی کی مدد سے اچھی طرح مکس کر کے اسے نیچے کنویں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں گیس بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’عام طور پر بائیو گیس میں بدبو کا تاثر پایا جاتا ہے لیکن اس گیس کی کوئی بدبو نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے سپلائی لائن کے راستے میں دو فلٹر لگائے ہوئے ہیں جو معمولی نمی اور بو کو وہیں روک لیتے ہیں اور کچن تک صرف صاف گیس پہنچتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاشی فائدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں ایل پی جی سلینڈر ساڑھے پانچ ہزار روپے کا ملتا ہے اور اس حساب سے چار گھروں کا سالانہ خرچہ دو لاکھ چالیس ہزار روپے بنتا ہے، لیکن اب اس پلانٹ کی وجہ سے چاروں گھر 24 گھنٹے مفت گیس استعمال کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ پلانٹ ایک ہی سال میں اپنی پوری لاگت وصول کر لے گا۔ 

محمد رمضان کا کہنا تھا کہ اس پلانٹ نے انہیں سلینڈر لانے لے جانے کے جھنجھٹ، دکانیں بند ہونے یا ہڑتال کے خوف اور سب سے بڑھ کر سلینڈر پھٹنے کے خطرے سے مستقل نجات دلا دی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *