’مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے اس شخص کے بارے میں مکمل تحقیقات نہیں کیں، میری بیٹی کی کوئی غلطی نہیں تھی۔‘
یہ کہنا ہے لائبہ اعجاز کے والد محمد اعجاز کا، جن کی بیٹی نے مبینہ طور پر امریکہ میں تعلیم کے نام پر لاکھوں روپے کے فراڈ کے بعد ’خودکشی‘ کر لی تھی۔
اسلام آباد میں جمعے کی رات درخت سے ایک نوجوان لڑکی کی لاش ملی جس کی شناخت فزکس کی گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی تھی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ایک شخص نے انہیں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اور سکالرشپ دلوانے کے نام پر تقریباً 87 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ہفتے کو اس معاملے میں محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف 93 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر امریکی ویزے اور سکالرشپ کے نام پر رقم وصول کرنے اور جعلی دستاویزات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کرنے اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جا کر سائنس دان بننا چاہتی تھیں، لیکن ان کے والد کے مطابق بیرونِ ملک یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ نے ان کے خواب کو مایوسی میں بدل دیا۔
محمد اعجاز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ نعمان نامی ایک ایجنٹ نے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے نام پر ان سے لاکھوں روپے وصول کیے۔
ان کے مطابق، یہ سلسلہ تقریباً سات ماہ تک جاری رہا، جس کے دوران انہیں داخلے، بینک سٹیٹمنٹ اور سفری دستاویزات کے حوالے سے مختلف یقین دہانیاں کروائی جاتی رہیں۔
لائبہ کے والد کے مطابق، ابتدا میں ’نعمان نے امریکہ میں داخلے کے لیے 22 لاکھ روپے طلب کیے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ملزم سے ملاقات کے دوران اس نے دعویٰ کیا کہ ’وہ سپریم کورٹ میں رجسٹرار کے طور پر کام کرتا ہے، جس پر انہیں اس کی باتوں پر اعتماد ہوگیا اور انہوں نے رقم دے دی۔‘
محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ بعد میں ملزم نے بینک سٹیٹمنٹ تیار کروانے کے لیے مزید 30 لاکھ روپے طلب کیے، جو انہوں نے ادا کر دیے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول، ملزم نے لائبہ کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولنے اور اس میں رقم منتقل کرنے کا دعویٰ بھی کیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ اور اس سے متعلق فراہم کی گئی تفصیلات مبینہ طور پر جعلی تھیں۔
’لائبہ کے امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور انٹرویو کے حوالے سے دی گئی معلومات بھی درست ثابت نہیں ہوئیں، جبکہ سفری ٹکٹوں کی جانچ کے دوران ان کے جعلی ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔‘
’میری بیٹی کو مزید 22 لاکھ روپے دینے کا پیغام آیا‘
لائبہ کے والد کے مطابق، جب داخلے اور دیگر دستاویزات کے حوالے سے مسائل سامنے آئے تو ملزم کی جانب سے مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا۔
محمد اعجاز نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا، جس میں مزید 22 لاکھ روپے دینے اور دستاویزات تبدیل کرکے فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔
’اس صورتِ حال کے بعد لائبہ شدید مایوسی کا شکار ہوگئیں۔ ہمیں جب معلوم ہوا کہ لائبہ گھر پر موجود نہیں ہیں تو ہم نے ان کی تلاش شروع کردی، تاہم تقریباً ایک گھنٹے کی تلاش کے بعد وہ مردہ حالت میں ملی۔‘
لائبہ کی موت کے حوالے سے ان کے والد کا مؤقف ہے کہ اگرچہ بظاہر یہ خودکشی کا واقعہ ہے، لیکن ان کے خیال میں مبینہ فراڈ اور مسلسل دباؤ نے ان کی بیٹی کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔ تاہم، واقعے کی اصل وجوہات اور حالات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
محمد اعجاز کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں نعمان اکیلا ملوث نہیں تھا بلکہ ایک خاتون سمیت دیگر افراد بھی لائبہ سے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق، اس گروہ میں تقریباً پانچ افراد شامل ہوسکتے ہیں۔
لائبہ کے والد نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بیٹی نے ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد ایک کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی، جہاں اس کی ملاقات نعمان نامی شخص سے ہوئی۔ تاہم، ان کے مطابق، انہوں نے بیٹی کو ملازمت چھوڑنے کا مشورہ دیا کیونکہ انہیں وہ جگہ مناسب نہیں لگتی تھی۔
محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ مبینہ فراڈ میں رقم ضائع ہونے کے علاوہ لائبہ کے چھوٹے بھائی کو سپریم کورٹ میں ملازمت دلوانے کے نام پر بھی پانچ لاکھ روپے دیے گئے تھے۔
اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بات کرتے ہوئے محمد اعجاز نے کہا کہ وہ خود کو اس معاملے میں قصوروار سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ملزم کے دعوؤں کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی۔
انہوں نے کہا، ’غلطی مجھ سے ہوئی کہ میں نے اس شخص کے بارے میں مکمل تحقیقات نہیں کیں۔ مجھے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے تھی، پھر اسے پیسے دینے چاہیے تھے۔ میری بیٹی کی کوئی غلطی نہیں تھی۔‘
انہوں نے والدین اور بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی ساکھ، متعلقہ یونیورسٹی میں داخلے کے طریقۂ کار اور تمام دستاویزات کی تصدیق براہِ راست متعلقہ اداروں سے کریں۔
محمد اعجاز نے کہا کہ واقعے کے بعد پولیس، ایف آئی اے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ دوسرے طلبہ اور ان کے والدین ایسے مبینہ فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
لائبہ کے والد کے مطابق، ان کی بیٹی کا خواب بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرکے سائنس دان بننا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی ایجنٹوں کے ذریعے ہونے والے فراڈ کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
