ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ایک پاکستانی کی موت، 11 افراد زخمی: سعودی حکام

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ اتوار کو ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری کی موت واقع ہوئی جبکہ 11 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بیان کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جب کہ حکام نے حملے سے ہونے والے مالی نقصان کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ 

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے اتحاد نے بتایا ہے کہ مسافروں کے زیر استعمال ٹرمینل 4 سے ایک نامعلوم پروجیکٹائل ٹکرانے کے بعد ایئرپورٹ پر آگ لگ گئی اور حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

اتحاد نے یہ بھی اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو تباہ کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ انہیں ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاض میں ہمارا سفارت خانہ سعودی حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔‘ 

اتوار کا یہ حملہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پانچ دنوں میں چوتھا حملہ تھا، جسے یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب کیا گیا ہے۔

یہ تازہ ترین حملہ ایک میزائل حملے کے ایک دن بعد ہوا ہے جس میں 13 افراد جان سے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

آر 4 گروپ کی شدید مذمت

آر فور گروپ کی ریاستوں (پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی) نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے گروپ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ’گروپ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ پر ہفتے کو ہونے والے حملے کی سعودی سرکاری ٹیلی ویژن الاخباریہ اور العربیہ کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں زائرین کو ایک گیٹ پر قطار میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے جو اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کے سفر کی تیاری کر رہے تھے۔ ایک چمکدار نارنجی روشنی کے جھماکے کے بعد لوگ خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے، جب کہ چھت کے کچھ حصے گرتے ہوئے دکھائی دیے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کی شام مشرقی صوبے میں دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاع دی ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ متعلقہ حکام کے تعاون سے ایئرپورٹ کی تنصیبات کے نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی معائنے کا عمل جاری ہے۔

حوثی ملیشیا نے ریاض اور دمام دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے گذشتہ روز کے ’دہشت گرد حملے‘ کی بھی شدید مذمت کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ’دہشت گردی کا سنگین اقدام، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘

دفتر خارجہ کے کے مطابق پاکستان نے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔‘

’جارحیت کے ایسے کھلے اور بلاامتیاز اقدامات کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *