پاکستان تحریک انصاف نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کو صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ، منتخب اسمبلی اور آئینی و جمہوری حقوق پر ’براہ راست حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں تحریک انصاف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا ایمرجنسی کے نفاذ سے صوبے میں سیاسی تناؤ، عوامی بے چینی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔‘
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی و جمہوری حقوق، امن، ترقی اور خوشحالی کا تحفظ ضروری ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کی شب ہی اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی۔
انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ خود مولانا فضل الرحمان اور بیرسٹر گوہر علی خان سے پتہ کریں کہ میں نے کتنی کوششیں کیں کہ معاملہ حل ہو جائے۔‘=
’میں نے آخری حد تک کوشش کی لیکن اب میرے پاس کچھ نہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اجلاس کے بعد جاری بیان میں مزید کہا کہ ’دہشت گردی کی ہر شکل اور مظہر کی غیر مشروط مذمت کرتے ہوئے پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم، دہشت گردی کے انسداد کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار میں صوبائی اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں، صوبے کی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں کے متفقہ موقف اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ عوامی اعتماد اور تعاون سے موثر اور پائیدار اقدامات کو ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں، خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے جمہوری موقف کا خیرمقدم کیا گیا۔
دونوں کمیٹیوں نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
