یمن میں حوثیوں کے 100 سے زائد فوجی اہداف تباہ کر دیے: سعودی فوجی اتحاد

یمن میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے فوجی اتحاد نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے ملیشیا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر کارروائی‘ میں اس کے 100 سے زائد فوجی اہداف تباہ کر دیے ہیں۔

حوثیوں اور یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، کے درمیان تنازع جولائی میں دوبارہ بھڑک اٹھا تھا اور اس کے بعد سے یہ پڑوسی مملکت تک بھی پھیل چکا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں.

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ردعمل میں سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔

 

فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم حوثی دہشت گرد ملیشیا کے اہلکاروں اور صلاحیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ایک الگ پوسٹ میں کہا کہ ’ہم نے حوثی دہشت گرد ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کر دیے ہیں۔‘

حوثیوں کے المسیرہ ٹی وی چینل نے رپورٹ کیا کہ سعودی میزائلوں نے شمال مغربی یمنی صوبے صعدہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔

یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ والے علاقوں پر قبضہ کرنے کے علاوہ، حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے برآمد کنندہ سعودی عرب میں ٹرانسپورٹ کے مراکز، تیل کی تنصیبات اور دیگر شہری اہداف پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔

عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم آبنائے باب المندب کے ارد گرد کے علاقے سمیت دیگر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے مقصد سے کیے گئے جوابی حملے کے باوجود، سعودی عرب اور یمن کی حکومتی فورسز کو حوثیوں کی پیش قدمی پیچھے دھکیلنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *