وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جمعے کو بتایا کہ اس نے کراچی میں انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ ایجنٹوں کو گرفتار اور 21 افراد کو بازیاب کرا لیا۔
ایف آئی اے کراچی زون نے آج ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں میں کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت بابر شہزاد اور محمد امتیاز ملک کے نام سے ہوئی۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر مسرور بلوچ کے مطابق ملزمان پر بھاری رقوم کے عوض شہریوں کو ایران اور عراق کے راستے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے کے انتظامات کرنے کا الزام ہے۔
بیان کے مطابق ملزمان کے مبینہ سہولت کاروں، نیٹ ورک کے مالی روابط اور بیرون ملک موجود دیگر کارندوں کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
’ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کس راستے سے لے کر جائیں گے‘
ایف آئی اے کی کارروائی میں بازیاب ہونے والے ایک شہری فرحان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بیرون ملک لے جانے کا وعدہ کرنے والے ایجنٹ نے منزل پر پہنچنے کے بعد ان سے چار سے ساڑھے چار لاکھ روپے وصول کرنے کی بات کی تھی۔
ان کے بقول ایجنٹ نے کہا تھا کہ وہ انہیں بیرون ملک لے جائے گا اور وہاں پہنچنے پر رقم ادا کرنی ہوگی۔
فرحان نے بتایا ’مجھے نہیں معلوم وہ ہمیں کس طریقے سے لے کر گیا۔ ہمیں کچھ بھی نہیں پتا تھا۔ ہم نے اس اجنبی شخص کو دیکھا تک نہیں کہ وہ کون ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایجنٹ سے ان کا رابطہ صرف موبائل فون کے ذریعے ہوتا تھا اور انہیں سفر کے طریقہ کار یا راستے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
فرحان کے مطابق انہوں نے بیرون ملک جانے کی کوشش کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتایا تھا۔
ان کے اہل خانہ سمجھتے تھے کہ وہ کراچی جا رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ایک اور بازیاب شہری خلیل نے بتایا کہ انہیں کراچی سے بلوچستان کے راستے بیرون ملک لے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق ایجنٹ نے منزل تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس سلسلے میں تقریباً پانچ لاکھ روپے کی رقم بتائی گئی تھی۔
خلیل کا کہنا تھا کہ انہیں سفر کے مختلف مراحل، راستے اور دیگر انتظامات کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی گئی تھیں۔ وہ ایجنٹ کے وعدے پر سفر کے لیے تیار ہوئے۔
وٹس ایپ کے ذریعے رابطے اور سفر کے انتظامات
تفتیشی افسر مسرور بلوچ کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کے ارکان مختلف علاقوں میں موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے لوگوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے کے انتظامات کیے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شہریوں کو پہلے کراچی لایا جاتا، جہاں بعض افراد کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا تھا۔
بعد ازاں انہیں چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرکے کراچی کے بس ٹرمینل یوسف گوٹھ سے بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی روانہ کیا جاتا تھا۔
مسرور بلوچ کے مطابق مبینہ طور پر جیوانی سے کشتی کے ذریعے افراد کو ایران پہنچانے کا انتظام کیا جاتا تھا، جہاں سے انہیں ترکی اور یورپ لے جانے کے وعدے کیے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک کے مختلف ارکان سفر کے الگ الگ مراحل کی ذمہ داری سنبھالتے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روانگی کا وقت دستیاب سواری اور دیگر انتظامات کے مطابق طے کیا جاتا تھا، جس کے تحت بعض افراد کو اسی رات جبکہ دیگر کو اگلے روز روانہ کیا جاتا تھا۔
پنجاب سے کراچی اور پھر بلوچستان
ایف آئی اے کراچی زون کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر افروز احمد نے آج صحافیوں کو بتایا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کا مبینہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری تھا۔
ان کے مطابق وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بیرون ملک بھیجنے کے وعدوں کے ذریعے آمادہ کیا جاتا، جس کے بعد انہیں بس یا ٹرین کے ذریعے کراچی پہنچایا جاتا تھا۔
وہاں سے انہیں چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرکے بلوچستان کی جانب روانہ کیا جاتا تھا۔
افروز احمد نے بتایا کہ مبینہ طور پر اس سفر میں یوسف گوٹھ سے جیوانی اور وہاں سے کشتی کے ذریعے ایران پہنچنے کا راستہ اختیار کیا جاتا تھا۔
ایران کے بعد بعض افراد کو ترکی اور یورپ لے جانے کے وعدے کیے جاتے تھے، جہاں پہنچنے کے لیے خطرناک پہاڑی اور سرحدی راستے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔
مزید مبینہ سہولت کاروں کی تلاش
ایف آئی اے کی پریس ریلیز کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سے متعلق قابل اطلاق قوانین کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد، سفر کے انتظامات کے لیے رقم وصول کرنے کے طریقوں اور بیرون ملک موجود رابطوں کے کردار کا پتا لگایا جا رہا ہے۔
مزید تحقیقات کے بعد نیٹ ورک کے دیگر مبینہ سہولت کاروں اور ان کے کردار سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
