خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ جاری، پی ٹی آئی کا مذاکرات کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے جمعے کو بتایا کہ انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنی جماعت اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار محمد ایاز صادق سے رابطہ کیا ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اختلافات کے باعث ناکام ہو چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی شمولیت کے بغیر بامعنی مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے جبکہ حکومت نے اپوزیشن پر پہلے ہونے والی مفاہمتی کوششوں کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل میں قید پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی کے لیے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے جو اس وقت صوبے کے مختلف حصوں میں جاری ہے۔

پی ٹی آئی کا منصوبہ ہے کہ 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کے بعد اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اب علی محمد خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے۔

جمعے کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات دانیال چوہدری نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر حامیوں کو متحرک کر رہی ہے، جبکہ صوبے میں عسکریت پسندوں کے تشدد سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دوبارہ ثالثی کی کوششوں سے متعلق اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے دانیال چوہدری نے سوال کیا، ’تو ہم ان لوگوں سے مزید کیا مذاکرات کر سکتے ہیں جو نفرت کی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں؟‘

پی ٹی آئی نے عسکریت پسندوں کی حمایت کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات وفاقی حکام کی جانب سے مسلط کرنے کے بجائے مشاورت سے طے کیے جانے چاہییں۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے رواں ہفتے مارچ کے دوران حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں مزید فوجی کارروائیوں کی مخالفت کریں گے۔ تاہم، انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی جماعت کی تحریک پُرامن اور آئینی حدود کے اندر رہے گی۔

اس سیاسی محاذ آرائی کے باعث خیبر پختونخوا میں وفاقی مداخلت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

وفاقی حکام نے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے یا ہنگامی اقدامات اٹھانے کے امکان پر غور کیا ہے، جن کے ذریعے اسلام آباد صوبائی انتظامیہ کے بعض اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ تاہم، تاحال ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعے کو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق کہا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر وفاقی حکومت نے ان سے صوبے کے حالات پر رپورٹ طلب کی تو وہ اپنے مشاہدات اور رائے پر مبنی رپورٹ وفاق کو ارسال کر دیں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، لیکن صوبائی حکومت مسلسل وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے ضلع کیماڑی میں سپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق صوبے کی صورت حال سب کے سامنے ہے، تاہم ایمرجنسی نافذ کرنے کا آئینی اختیار ایک ’قانونی ایٹم بم‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جسے صرف اسی وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب دیگر تمام راستے اختیار کیے جا چکے ہوں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی حکومت اور ’پورا نظام‘ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے لیے آمادہ تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے غیر معمولی اقدامات کو آخری چارۂ کار کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی کی وجہ سے مذاکرات کیوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات زیر بحث آنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی جمعرات کو پشاور پہنچ چکے ہیں جبکہ جماعت کا منصوبہ ہے کہ جمعے کو چارسدہ اور ہفتے کو مردان کی جانب پیش قدمی کرنے کے بعد صوابی پہنچا جائے۔

جماعت نے ایک بیان میں کہا، ’صوابی میں رات قیام کے بعد لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘

مارچ کے پروگرام میں بار بار تبدیلیوں کے باعث یہ غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ مظاہرین کب اور کس طرح اسلام آباد میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پُرتشدد مظاہروں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دارالحکومت میں شہریوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات اور کاروباری سرگرمیوں تک رسائی کا تحفظ کرے گی۔

اس سیاسی کشیدگی کے باعث نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ اس سے قبل سڑکوں پر عائد پابندیوں کے باعث کراچی اور شمالی پاکستان کے درمیان مال برداری بھی متاثر ہوئی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *