نواب آف بہاولپور کتنے امیر تھے؟

اسلام آباد میں گذشتہ دنوں سابق ریاست بہاولپور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پرنس بہاول خان عباسی کے گھر سے تاریخی نوادرات اور قیمتی اشیا کی چوری سے یہ سوال پھر سامنے آیا ہے کہ آخر بہاولپور کے نوابوں کے پاس کتنی دولت تھی؟ ان کے خزانے میں کیا کچھ موجود تھا؟ اور یہ خزانہ آج کدھر ہے؟ کس وارث کو کیا کچھ ملا؟

 وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے مطابق سیکٹر ایف ایٹ میں پیش آنے والی واردات میں تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی شاہی اشیا چوری ہوئیں، جن میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، چاندی کے برتن، سونے کی پلیٹیں، ریاست بہاولپور کے نشان کی حامل اشیا، چاندی کا تاریخی فریم، تلواریں اور پرانی بندوقیں شامل تھیں۔

پولیس نے پھر 5 اکتوبر کو بتایا کہ چھ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 70 سے 80 فیصد مال بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ چوری شدہ اشیا کی برآمدگی کی وجہ سے ان اشیا کی وقعت کم ظاہر کی جا رہی ہو کیونکہ جب کسی چیز کے ساتھ ’نوادرات‘ کا لفظ لگ جاتا ہے تو پھر وہ صرف سونا چاندی یا ہیرے جواہرات کی قیمت میں نہیں تولے جاتے بلکہ نوادرات کے شوقین حضرات ان کی منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ صرف ایک چوری کی داستان نہیں۔ ان اشیا کے پیچھے برصغیر کی ایک سابق ریاست کی وہ دولت پوشیدہ ہے جس کا صحیح حجم آج بھی پوری طرح سامنے نہیں آ سکا۔

نواب صاحب کے پاس کتنی دولت تھی؟

اب تک کوئی ایسا مستند سرکاری ریکارڈ نہیں ملتا جس سے معلوم ہو کہ 24 مئی 1966 کو وفات کے وقت نواب سر صادق محمد خان پنجم کی کل ذاتی دولت کتنی تھی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دولت صرف نقد رقم یا بینک اکاؤنٹس پر مشتمل نہیں تھی۔

اس میں محلات، زمینیں، شکارگاہیں، زیورات، سونا، چاندی، قیمتی برتن، ہتھیار، گاڑیاں، فرنیچر، نوادرات، سکیورٹیز اور دوسری منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں شامل تھیں۔

بہاولپور پاکستان میں شامل ہونے والی پہلی ریاست تھی۔ 1954 میں حکومت پاکستان اور نواب صاحب آف بہاولپور کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس میں حکومت نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا کہ نواب کو اپنے جواہرات، زیورات، زیورات و آرائش کی اشیا، سکیورٹیز اور دوسری نجی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد پر مکمل ملکیتی حق حاصل ہوگا۔

یہ شق اس لیے اہم ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نواب کی ذاتی دولت ریاستی خزانے سے الگ ایک بہت بڑا اثاثہ تھی۔ 1954 کے مرجر ایگریمنٹ میں پاکستان نے نواب کے لیے سالانہ 32 لاکھ روپے کا شاہی وظیفہ مقرر کیا۔

یہ رقم ٹیکس سے مستثنیٰ تھی اور معاہدے کے مطابق اس سے نواب اور ان کے خاندان کے لیے اخراجات پورے ہونے تھے۔ آج کے زمانے میں 32 لاکھ روپے بظاہر کوئی بہت بڑی رقم محسوس نہیں ہوتی، لیکن تب یہ ایک غیر معمولی سالانہ رقم تھی۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی نجی دولت اور ریاستی آمدن الگ معاملہ تھا۔

اگر ہم اس بات کاجائزہ لینا چاہیں کہ 1954 میں جاری ہونے والے اس شاہی وظیفے کی مالیت آج کے حساب سے کتنی بنتی ہے تو سونے کی قیمتوں کے تقابل کے حوالے سے یہ رقم تقریباً 12 ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔

نواب صاحب کے پاس شاہی وظیفے کے علاوہ بھی خطیر مال و دولت اور جائیداد تھی۔ پرنس قمر الزمان عباسی نے، جو کہ نواب صادق عباسی پنجم کے نواسے ہیں، ایک کتاب ’بغداد سے بہاولپور‘ لکھی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ نواب نے قیام پاکستان کے فوراً بعد حکومت کی مدد کے لیے سات کروڑ روپے دیے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب 14 اگست کو گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے لیے گورنر ہاؤس گئے تو نواب صاحب نے ان کے لیے دو رولز رائس کاریں بھجوائیں۔ ان میں سے ایک نمبر BWP-72 تھا جس پر سوار ہو کر قائداعظم گورنر ہاؤس پہنچے تھے۔

بعد میں یہ دونوں کاریں نواب نے تحفے میں دے دیں۔ نواب صاحب کو دوسری عالمی جنگ میں تاج برطانیہ کی خدمات کے عوضانہ کے طور پر وکٹوریہ کراس بھی دیا گیا تھا اور اس کے ساتھ 52,000 پاؤنڈز بھی دیے گئے تھے۔ یہ انہوں نے قائداعظم کو بطور عطیہ دے دیے تھے۔

نواب آف بہاولپور کے وسیع محلات کس کی ملکیت ہیں؟

نواب سر صادق محمد خان پنجم کی دولت کا سب سے اہم حصہ ان کی زمین تھی، جو 3 لاکھ 77 ہزار ایکڑ تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی وراثت کے تنازعے اب تک عدالتوں میں چل رہے ہیں۔

2006 میں وفاقی حکومت نے ان کی 377,974 ایکڑ شکار گاہ کی زمین 23 قانونی وارثوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ بعد کے عدالتی ریکارڈ میں اس زمین کے مختلف اعداد و شمار اور قانونی حیثیت زیر بحث رہی۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں تقریباً 312,440 ایکڑ شکار گاہ کی نجی ملکیت کے دعوے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

اس لیے مختلف ادوار کے ریکارڈ میں رقبے کے اعداد میں فرق نظر آتا ہے۔

نواب کی دولت صرف صحرائی یا شکار گاہ کی زمین تک محدود نہیں تھی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2000 کی دہائی میں ان کی نجی جائیداد کی تقسیم کے دوران 4,455 ایکڑ، پانچ کنال اور تین مرلے شہری اور زرعی زمین بھی ریکارڈ میں آئی، جس میں رہائش گاہیں، محلات، دکانیں اور دوسری عمارتیں شامل تھیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر اور پروفیسر ڈاکٹر آفتاب حسین گیلانی کی مشترکہ تصنیف ’خطۂ بہاولپورکا مختصر جغرافیائی، تاریخی، انتظامی و ثقافتی جائزہ‘ جو 2020 میں چھپی تھی، میں لکھا ہوا ہے کہ بہاولپور کے نوابوں نے ریاست میں کئی محلات بھی بنوائے جن میں نور محل بہاولپور بھی شامل ہے، جس کی تعمیر 1879 میں 12 لاکھ روپے کی رقم سے مکمل ہوئی تھی۔

صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب 1895 میں 22 لاکھ روپے سے مکمل کیا گیا۔ گلزار محل، دربار محل، مبارک محل، نشاط محل اور فرخ محل اس کے علاوہ ہیں۔

نواب صاحب کے لاہور اور کراچی میں بہاولپور ہاؤس کے نام سے عالی شان مکان تھے۔ دہلی میں بہاول منزل 1939 میں مکمل ہوئی جو تقسیم کے بعد امریکی سفارت خانے کو فروخت کی گئی۔ اس کے علاوہ پالم پور اور شملہ میں بھی ان کی رہائش گاہیں تھیں۔ لندن میں بھی بہاولپور ہاؤس موجود تھا۔

احمد پور شرقیہ بہاولپور میں رہائش پزیر بزرگ صحافی اور مصنف احسان احمد سحر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اسلام آباد میں رہائش پزیر پرنس بہاول عباسی جن کے گھر چوری کی واردات ہوئی ہے وہ نواب صلاح الدین عباسی کے بیٹے ہیں اور وہ ہی سب سے عالی شان محل صادق گڑھ کے بھی مالک ہیں۔

’ان کے والد جو صاحبِ فراش ہیں وہ مبارک محل میں رہائش پذیر ہیں۔ قلعہ ڈراوڑ جہاں شاہی خاندان کی قبریں بھی ہیں، وہ بھی ان کی ملکیت ہے۔ نور محل، گلزار محل، دربار محل اور نواب صاحب کی شاہی بیرکس وغیرہ سب پاکستان فوج کے زیر انتظام ہیں جبکہ نواب صادق خان پنجم کی جائیداد ان کے انتقال کے بعد ان کے دس بیٹوں، دس بیٹیوں اور تین بیواؤں میں تقسیم ہوئی تھی۔‘

 تاہم اصل شاہی خزانہ کتنا تھا؟ اس سوال کا جواب آج بھی ایک معمہ ہے کیونکہ صادق گڑھ پیلس میں موجود اشیا کی پرانی اور نئی فہرستوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ محل میں موجود نواب صاحب کی تقریباً 80 فیصد قیمتی اشیا غائب تھیں۔

سونے کا ڈنر سیٹ

صاحبزادہ محمد قمر الزمان عباسی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’شہنشاہِ ایران رضا شاہ پہلوی جب پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تو نواب صادق خان عباسی نے ان کے اعزاز میں اپنے محل میں ایک شان دار ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں گورنر جنرل سکندر مرزا اور ان کی اہلیہ ناہید مرزا بھی شامل تھیں۔

’شہنشاہ کو کھانا سونے کے برتنوں میں پیش کیا گیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد بیگم ناہید مرزا نے از راہِ تفنن کہا کہ نواب صاحب کیا ہی اچھا ہوتا کہ کھانے کے بعد یہ برتن بھی مہمانوں کو تحفے میں پیش کر دیے جاتے جس پر ان کے سٹاف افسر کرنل سعید ہاشمی نے کہا کہ بیگم صاحبہ اگر کھانے کے بعد برتنوں کی تقسیم کا رواج ہوتا تو آج آپ کو یہاں مٹی کے برتن بھی نہ ملتے۔

’اسی طرح کا ایک اور واقعہ 1973 میں اس وقت پیش آیا جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مختلف ممالک کے سفیروں کے ہمراہ صادق گڑھ پیلس میں ایک ضیافت میں شریک ہوئے جو ان کے اعزاز میں نواب محمد عباس عباسی گورنر پنجاب نے دے رکھی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ ڈنر سیٹ جس میں کھانا پیش کیا گیا ہے سونے کا ہے تو انہوں نے اس میں خاصی دلچسپی لی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ کیا ہی اچھا ہو اگر نواب صاحب اپنے مہمانوں کو سونے کے برتن تحفے میں دے دیں۔‘

سونے کے وہ برتن اور نوادرات جن کے ساتھ کئی ایک کہانیاں جڑی ہوئی ہیں وہ اسلام آباد کے چوروں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ اب اسلام آباد پولیس کا امتحان ہے کہ وہ ان تاریخی نوادرات کو برآمد کر پاتی ہے یا نہیں۔

اگر نواب صاحب کی ریاست میں ایسا ہوا ہوتا؟ لیکن ٹھہریں ایسا کیسے ہوا ہوتا؟ وہ نواب جس کے خوف سے چور اور ڈاکو ریاست کے اندر داخل ہونے سے ہی ڈرتے تھے وہاں ایسا واقعہ کیسے ہو جاتا؟ یہ بیسویں صدی کی ریاست بہاولپور نہیں اکیسویں صدی کا اسلام آباد ہے جہاں احمد فراز کے تمغے چوروں سے محفوظ نہیں یہ تو پھر نواب صاحب کا خزانہ تھا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *