اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کی امداد کی آڑ میں انڈیا طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف ’دہشت گرد حملوں‘ کے لیے مادی اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل نے یہ بات انڈین نمائندے کے بیان پر ردعمل میں کہی۔ محمد جواد اجمل نے کہا کہ ’انڈیا افغانستان کے اندر موجود اپنے پراکسیز کی فعال معاونت کے ذریعے فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندستان (بی ایل اے) جیسے دہشت گرد گروپوں کی مدد اور سرپرستی کر رہا ہے۔
بدھ کو عالمی ادارے کی چھٹی کمیٹی میں ایجنڈا آئٹم ’بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات‘ پر بیان میں پاکستانی سفارتی نمائندے کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی ایک مرتبہ پھر انڈین وفد کی جانب سے ایک اور بیان میں وہی پروپیگنڈا سنا ہے۔
’یہ امر افسوس ناک ہے کہ ایک ایسا ملک، جو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے، جس نے اسلاموفوبیا اور انتہاپسند نظریات کو معاشرے میں عام کر دیا ہے۔ جو جموں و کشمیر کے غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، وہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات اور ناشائستہ بیانات دے رہا ہے۔‘
انڈین فرسٹ سیکرٹری رگھو پوری نے اس سے قبل اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان خود کو ’دہشت گردی‘ کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ اور مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے اور ’اس حقیقت پر پردہ ڈالتا ہے کہ جن عفریتوں کو اس نے خود پیدا کیا اور پھر ان پر کنٹرول کھو دیا، وہ ہمسایہ ممالک میں تباہی مچانے کے بعد اب خود اس کے اپنے ملک میں وہی کچھ کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے اپنے رہنما اس بات کو بے نقاب کر چکے ہیں۔ آپ ایک ہی وقت میں شکار اور شکاری دونوں کا ساتھ نہیں دے سکتے۔
انڈین نمائندے کے بیان کے ردعمل میں پاکستانی سفارتی نمائندے محمد جواد اجمل نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر انڈین سرپرستی میں ہونے والی ’دہشت گردی کی بھاری قیمت‘ سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے لیے انڈیا کی اس نئی محبت کا کوئی اتفاقی پہلو نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہم دنیا کو مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ انڈیا ہمارے خطے میں انتشار پھیلانے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
’پاکستانی سرزمین پر زیر حراست انڈین بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادو کی گرفتاری اور اس کی جانب سے تخریب کاری، جاسوسی اور پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری جاں بحق ہوئے، انڈین ریاستی دہشت گردی کی ایک نمایاں مثال ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بیرون ملک قتل اور ٹارگٹ کلنگ میں انڈیا کا کردار، جو اب اس کی غیر قانونی کارروائیوں کی ایک عالمی پہچان بن چکا ہے، سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں نکھل گپتا کی جانب سے امریکی سرزمین پر ایک سکھ رہنما کے قتل کی سازش کے اعتراف جرم کی کوشش اور کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا واقعہ شامل ہے۔
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں انڈین حکومت کی ہدایت پر کیے جانے کے اقدامات سے منسلک ہیں اور یہ معاملات کسی مزید وضاحت کے محتاج نہیں۔
قونصلر محمد جواد اجمل نے کہا کہ یہ بات سب پر واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اپنے عوام اور اپنی سلامتی کا دفاع کرے گا۔
’اس مقصد کے لیے پاکستان ہر ضروری اقدام کرے گا جبکہ تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کے اپنے غیر متزلزل عزم پر بھی قائم رہے گا۔‘
محمد جواد اجمل نے کہا کہ جہاں تک نام نہاد ’آپریشن سندور‘اور گذشتہ سال مئی 2025 میں اس جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی جانب سے دیے گئے مؤثر اور متناسب جواب کا تعلق ہے، پوری دنیا زمینی حقائق اور پاکستان کے اقدامات کی گواہ ہے، جن کی تفصیلات دہرانے کی ضرورت نہیں۔
پاکستان اور انڈیا میں شدید کشیدگی
انڈیا اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ایک مہلک حملے کا الزام نئی دہلی نے بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگا دیا جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
تاہم انڈیا نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ پنجاب کے کئی علاقوں میں حملے کرنا شروع کر دیے۔
انڈیا نے اس کارروئی کو آپریشن سندور کا نام دیا تھا۔ انڈیا کی اس کارروائی میں پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں درجنوں اموات ہوئی تھیں۔
جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے نام سے کارروائی کرتے ہوئے انڈین ایئربیسز، انڈیا کے جنگی طیاروں سمیت ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا تھا۔
