’شادی سادی ہونی چاہیے اور چلنی چاہیے۔‘ میرا ہمیشہ شادی سے قبل یہ ہی مقولہ ہوتا تھا اور کافی حد تک میں نے اپنی شادی پہ اس کو لاگو بھی کروایا، کہیں تھوڑا امی خفا ہوئیں تو کہیں بڑے بھائی جان نے حیرانی ظاہر کی، لیکن سب بہت خوشی خوشی انجام پایا۔
اب 21 برس بعد جب پلٹ کے دیکھتی ہوں تو ویسے سادہ اور دل کو موہ لینے والے فنکشن کم اور ’ریمپ اور بیش بہا بجٹ‘ والی شادیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، جو کبھی دلہا دلہن کا شوق ہوتا ہے اور کہیں والدین کے ارمان۔
آخر شادی کی رسومات کتنی تام جھام اور طوالت پہ مبنی ہونی چاہییں، اس پہ لکھنے بیٹھی تو نوجوانوں کی طرف سے کم و بیش ایک جیسی رائے سننے کو ملی۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا یہ ہی ماننا تھا کہ ’شادی کے فنکشن ایک یا دو سے زائد نہ ہوں اور مشترکہ طور پہ خرچہ کیا جائے۔ کسی بھی ایک فیملی پہ خرچے کا بوجھ ڈال دینا یا بے جا نخرے اٹھوانا بالکل مناسب نہیں۔‘
اب دیکھا جائے تو بچے بچیاں سبھی روزگار سے منسلک ہوتے ہیں، آٹے دال کا بھاؤ خوب سمجھتے ہیں، ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں اور اکثر تو تعلیم کا قرضہ بھی چکا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہفتے بھر پہ پھیلی تقریبات کا لوگوں کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔
حال ہی میں شادی شدہ ہوئے، بینکر احمد ولی کا کہنا تھا کہ ’وقت بدل چکا ہے، پہلے شادی اس لیے بھی کی جاتی تھی کہ لڑکے پہ ذمہ داری پڑے گی تو سنبھل جائے گا۔ اب ایسا نہیں ہے شادی وہی کر پاتا ہے جو ذہنی اور معاشی طور پہ توازن رکھتا ہو۔‘
نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے اس موضوع پہ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شادی دو لوگوں کے درمیان اخلاقی طور پہ جسم و روح کا وہ معاہدہ ہے جسے مل کر نبھانے کا عہد کیا جاتا ہے، شادی مشکل میں ساتھ کھڑے رہنے اور برابری کی بنیاد پہ ایک دوسرے کو پرکھنے کا رشتہ ہے نا کہ دکھاوے اور رشتوں میں اونچ نیچ کا نام شادی ہے۔‘
کیا والدین بھی اسی پریکٹیکل نظر سے شادی کے نظریے اور تقریبات کو دیکھتے ہیں؟
چار نوجوان بچوں کی والدہ مسز خالد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’شادی کے لیے قرضے لینا، برابری کرنا اور کئی کئی ہفتوں تک تقریبات منانا بالکل نامناسب ہے، شادی بچوں کی مرضی، بڑوں کی خوشنودی اور اپنے بجٹ کے مطابق کرنی چاہیے۔ سادگی کے ساتھ بھی خوشی منائی جا سکتی ہے، نا کہ آپ دیوالیہ ہو جائیں اور قرضوں مِیں جکڑ جائیں۔ یہ چند دنوں کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ عمر بھر کا معاہدہ ہوتا ہے، جسے خوش اسلوبی سے گزارنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔‘
تو دوسری طرف صحافی صفیہ محمود کہتی ہیں: ’میری دو بیٹیاں ہیں اور میں نے دونوں سے یہی کہہ رکھا ہے کہ میری اور تمہارے ابا کی سیونگز تم دونوں کی تعلیم کے لیے ہیں۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے وہ ہماری دعاؤں اور اپنے خرچے سے ہی کرنا۔ شادی کے بیش بہا خرچوں سے بہتر ہے اولاد کو اعلی تعلیم دلوا دینا تاکہ وہ زندگی میں کسی پہ بوجھ نہ بنیں۔‘
اس بلاگ کے لکھتے لکھتے یاد آیا کہ اس سال جنوری میں میں نے ایک ’شیندلیما‘ بھی اٹینڈ کیا۔ یعنی، مہندی، شادی اور ولیمے کی ایک مشترکہ خوبصورت سادہ تقریب، جس میں خوشی سے بھرپور چہروں اور رسموں سے رونق تھی اور طعام کے لیے وافر مقدار میں سادہ سا مینیو بھی سجا تھا۔ سادگی کا بھی اپنا ہی روپ ہوتا ہے جو اس ’شیندلیمے‘ پہ ’رج‘ کے آیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شادی خوشیاں بانٹنے اور بٹورنے کی تقریب ہوتی ہے لیکن بے جا اخراجات اور رسومات اسے دوسروں کے لیَے احساس کمتری کا سامان بھی بنا دیتی ہیں۔
کئی نوجوانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہم سادہ اور مختصر تقریبات بھی کرنا چاہیں تو والدین نہیں مانتے، ان کے بقول ’یہ خوشیاں اور دینا دلانا لوٹانے کا بھی موقع ہوتا ہے، اسے سادگی اور خاموشی سے نہیں منایا جا سکتا، لوگ کیا کہیں گے اور خوشی کا موقع ہے اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں لگتی۔‘
اکلوتے بیٹے راحیل کی والدہ ثمینہ شیخ کہتی ہیں کہ ’میں سندھی ہوں اور شوہر پنجابی ہیں۔ ہماری ثقافت میں تو دھوم دھام سے شادی کی خوشیاں منائی جاتی ہیں، بھلے ہی شادی ولیمے کا ریسپشن ہلکا پھلکا ہو لیکن مہندی کی ہلے گلے کی تقریب لازمی ہے اور میں بھی سبھی قریبی احباب کے ساتھ مل کر اسی طرز کو اپنانا چاہوں گی۔‘
بعض نوجوان تو بالکل ہی کورٹ میرج کے قائل بھی ملے۔ اس بلاگ کی تحریر کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ایک بڑی تعداد نکاح سے زائد کسی تقریب مِیں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ ’فیوچر سیونگ‘ کے انداز میں شادی کی تقریبات کو غیر اہم سمجھتی ہے۔ شاید یہ ہی تبدیلی کا آغاز ہو۔
کئی نوجوان خواتین نے یہ بھی کہا کہ ’کئی دنوں کے اہتمام کی بجائے ایک سادہ سی تقریب اور قریبی احباب پہ مشتمل ہونی چاہیے، سب مل کر بیٹھ سکیں، خوشیاں بانٹیں، ناچیں گائیں اور اچھا کھانا کھا کہ جائیں۔ یہ یادیں ہوتی ہیں مل کر منا لینی چاہیں۔‘
مانا کہ شادی زیادہ تر ایک ہی بار ہوتی ہے تو ان یادگار لمحوں کو سادگی اور محبت کی بھرپور مالا میں پرو لینا ہی ضروری ہے۔


