پاکستان کے ٹیکس ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا کریئیٹرز کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت یوٹیوب پر ہر ایک ہزار ویوز کے لیے 195 روپے (0.71 ڈالر) کی آمدن مقررہ معیار کے طور پر استعمال کی جائے گی۔
حکام نے منگل کو بتایا کہ نیا طریقہ کار پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ اقدام ایف بی آر کی جانب سے اپریل میں جاری کیے گئے ایک ضابطہ جاتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے نیا ٹیکس فریم ورک متعارف کرایا گیا تھا۔
اسی فریم ورک کے تحت ٹیکس اتھارٹی نے 23 ستمبر کو ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ’منافع والے سوشل میڈیا مواد‘ سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت کریئیٹرز قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین کرتے وقت اپنی آمدن کے 30 فیصد تک اخراجات نکال سکتے ہیں۔
منگل کو ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نئے قواعد ایسے مواد پر لاگو نہیں ہوں گے جسے ویوز تو ملیں لیکن اس سے کوئی آمدن حاصل نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار منافع بخش یا مونیٹائز کیے گئے سوشل میڈیا مواد کے لیے ہے۔
حکومتی عہدیدار نے عرب نیوز کو اس حوالے سے بتایا: ’جب یہ واضح ہو جائے کہ مواد مونیٹائز کیا گیا ہے تو فارمولے کے تحت ہر ایک ہزار ویوز کے لیے 195 روپے کی شرح کے مطابق مجموعی آمدن کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے کہا کہ 195 روپے کی شرح مقرر کرنے کی وجہ یہ شرح ایف بی آر کی تحقیق اور پاکستان میں مونیٹائزڈ مواد بنانے والے افراد سے مشاورت کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم مختلف اقسام کے مواد اور مختلف سوشل میڈیا کریئیٹرز کی جانب سے یوٹیوب پر ہر ایک ہزار ویوز سے حاصل ہونے والی عام پاکستانی مواد کی اوسط آمدن سے کم ہے۔
یوٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر، جہاں کریئیٹرز کو مختلف طریقہ کار کے تحت ادائیگی کی جاتی ہے یا ویوز کی بنیاد پر ادائیگی نہیں ہوتی، کریئیٹرز کو ایک مخصوص مدت کے دوران حاصل ہونے والی مجموعی آمدن ظاہر کرنا ہوگی۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق آمدن کا تعین دو رقوم میں سے زیادہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا: ایک ہزار ویوز کی مقررہ شرح کو مجموعی ویوز سے ضرب دے کر ایک ہزار سے تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والی رقم، یا کریئیٹر کو حقیقت میں ملنے والی رقم، خواہ وہ نقد ہو یا کسی اور شکل میں۔
کریئیٹرز یہ ثابت بھی کر سکتے ہیں کہ انہیں فی ایک ہزار ویوز 195 روپے کی مقررہ شرح سے کم آمدن ہوئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کا مؤقف ہو کہ اسے مقررہ حد سے کم مجموعی آمدن حاصل ہوئی ہے تو اسے اس حوالے سے ثبوت کمشنر کو پیش کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کے عہدیدار کے مطابق قابلِ قبول ثبوت میں پلیٹ فارم کی آمدن کی رپورٹس، بینک میں موصول ہونے والی رقم سے مطابقت رکھنے والے ادائیگی کی سٹیٹمنٹس، ودہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹس اور سپانسرشپ یا موصول ہونے والی اشیا سے متعلق معاہدے یا انوائسز شامل ہو سکتے ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹیکس کمشنر متعلقہ قانونی شقوں کے تحت کسی کریئیٹر سے اس کے سوشل میڈیا ڈیش بورڈ تک رسائی بھی طلب کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کریئیٹر کی پوسٹ کو صرف ویوز ملتے ہیں لیکن اسے مونیٹائز نہیں کیا گیا، اس کے لیے سپانسرشپ نہیں ہوئی یا اس سے کسی اور طریقے سے آمدن حاصل نہیں ہوئی تو اس پر ویوز کی بنیاد پر آمدن کا تخمینہ لاگو نہیں ہوگا۔
تحائف اور مفت مصنوعات بھی قابلِ ٹیکس
ایف بی آر کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن صرف نقد ادائیگیوں تک محدود نہیں ہوگی۔
ایف بی آر کے عہدیدار نے کہا کہ اشیا کی صورت میں ملنے والی ادائیگی بھی آمدن میں شمار ہوگی۔
ان کے مطابق مواد بنانے کے عوض فراہم کی جانے والی مفت مصنوعات یا تحائف کے بدلے بنائی گئی پوسٹ بھی معاوضے کے عوض بنایا گیا مواد شمار ہو سکتی ہے۔
ایسے کریئیٹرز جو یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کسی پوسٹ کے لیے انہیں ادائیگی نہیں کی گئی، انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ پلیٹ فارم کی رپورٹس محفوظ رکھیں جن سے ظاہر ہو کہ مونیٹائزیشن بند تھی یا آمدن صفر تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ انہیں ادائیگی کے بیانات، بینک سٹیٹمنٹس اور ایسے ریکارڈ بھی محفوظ رکھنے ہوں گے جن سے ظاہر ہو کہ پوسٹ کے ساتھ کوئی سپانسرشپ، برانڈ معاہدہ یا مفت فراہم کی گئی مصنوعات وابستہ نہیں تھیں۔
تاہم نوٹیفکیشن میں اس طریقہ کار کے تحت ٹیکس کی کوئی الگ شرح مقرر نہیں کی گئی۔ پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ شقیں بدستور لاگو ہوں گی۔
سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس
نئے طریقہ کار کے تحت سوشل میڈیا کریئیٹرز کو ہر سہ ماہی کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔
کریئیٹرز کو اپنی سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن میں مخصوص حصے کے تحت آمدن ظاہر کرنا ہوگی۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن نئے قواعد کے تحت حساب کی گئی رقم سے کم ہوئی تو متعلقہ کمشنر ریٹرن میں ترمیم کرکے واجب الادا رقم وصول کر سکتا ہے۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں منافع بخش سوشل میڈیا مواد سے آمدن حاصل کرنے والے مقیم افراد کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے مقیم افراد شامل ہیں جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں صارفین سے رابطے یا ان کی سرگرمی سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔
ایف بی آر کے عہدیدار کے مطابق نئے قواعد کے تحت مقیم افراد پر کم از کم فالوورز یا ناظرین کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، جبکہ غیر مقیم افراد کے لیے متعلقہ قواعد کے تحت اضافی حد مقرر ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ نان ریزیڈنٹس افراد پر یہ قواعد صرف اس صورت میں لاگو ہوں گے جب کسی ٹیکس سال کے دوران پاکستان میں ان کے صارفین کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ یا کسی سہ ماہی میں 12 ہزار 250 سے زیادہ ہو۔

