اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر مبینہ طور پر روٹ میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اشتعال دلانے سے متعلق کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر بدھ کو فردِ جرم عائد کر دی۔
اس مقدمے میں پولیس کا الزام ہے کہ ملزمان نے اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے، سڑکیں بلاک کیں اور سرکاری امور میں مداخلت کی۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
گذشتہ روز (6 اکتوبر) کی سماعت میں اڈیالہ جیل میں بجلی کی بندش کے باعث دونوں کو ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکا تھا، جس کی وجہ سے فردِ جرم عائد نہیں ہو سکی تھی۔ عدالت نے جیل حکام کو اگلی سماعت پر ان کی پیشی اور وکلا سے ملاقات یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے آج اس کیس کی سماعت کی، جہاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک مقدمے کی نقول بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے، اس وقت تک فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔‘
وکیل دفاع زینب جنجوعہ نے بھی عدالت کو بتایا کہ نہ تو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مقدمے کی نقول فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے وکلا سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’عدالت تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فردِ جرم عائد نہیں کر سکتی۔‘
تاہم عدالت نے وکیل دفاع کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کے باوجود دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔
سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے زینب جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے اس آرڈر کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے استغاثہ کے گواہوں کو بھی طلب کر لیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت جس مقدمے میں زیرِ حراست ہیں، وہ ان کے خلاف درج ایک الگ کیس ہے۔ دونوں کو ستمبر میں اس وقت دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا، جب سپریم کورٹ نے ایک دوسرے کیس میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
اس سے قبل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں جنوری 2026 میں مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کر لی تھی۔
