آڈیٹر جنرل پاکستان نے بلوچستان کے پانچ سرکاری محکموں کے ملازمین کو 2023 میں بجٹ کی تیاری کے حوالے سے ایک ارب 60 کروڑ روپے کے کیش ایوارڈز کی مد میں ادائیگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور رقم کے اجرا کا جواز طلب کرتے ہوئے اس پریکٹس کے خاتمے اور رقم کی وصولی کی سفارش کی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی معاملات کا آڈٹ کرکے اخراجات، مالی انتظام اور قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق اعتراضات اور سفارشات اپنی رپورٹس میں شامل کرتا ہے۔
حکومت بلوچستان کے اخراجات سے متعلق مالی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے گرانٹ اِن ایڈ کی مد میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رقم جاری کی، جو آڈٹ حکام کے مطابق غیر قانونی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رقم فنانس ڈیپارٹمنٹ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس اور بلوچستان اسمبلی کے ملازمین کو 2023 میں بجٹ کی تیاری کے حوالے سے کیش ایوارڈ کے طور پر دی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں اس ادائیگی کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے 2020 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے کیش ایوارڈز اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آڈٹ حکام نے یہ معاملہ جون 2025 میں محکمہ خزانہ کے ساتھ اٹھایا تھا، تاہم محکمہ خزانہ کی جانب سے کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آڈٹ رپورٹ میں رقم کے اجرا کا جواز پیش کرنے، اس پریکٹس کو ختم کرنے اور ادا کی گئی رقم کی وصولی کی سفارش کی گئی ہے۔
تاہم بلوچستان کے محکمہ خزانہ کے سپیشل سیکریٹری عارف خان اچکزئی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رقم خردبرد کی گئی۔
عارف خان اچکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ بات درست نہیں کہ اتنی بڑی رقم خردبرد کی گئی ہے۔ ڈاکومنٹس بروقت نہ ملنے پر آڈٹ پیراز لگتے رہتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح کا ایک پیرا ہے۔‘
آڈٹ پیرا خود رقم کی خردبرد یا بدعنوانی کا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ متعلقہ محکمے سے وضاحت اور ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد معاملہ نمٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔
عارف خان اچکزئی نے کہا کہ ’آڈیٹر جنرل کی جانب سے ہر سال باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے اور جس رقم پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، امکان ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں کوتاہی ہوئی ہو۔‘
سپیشل سیکریٹری خزانہ کے مطابق: ’سرکاری پیسے آسانی سے کوئی ایک شخص نہیں نکال سکتا۔ بجٹ سمیت جو بھی رقم استعمال میں لائی جاتی ہے، اس کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔ اس کے لیے سمری پیش کی جاتی ہے اور منظوری کے لیے باقاعدہ کابینہ کو بھیجی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سالانہ بجٹ میں ایک روپے سے لے کر اربوں روپے تک کی رقم کی منظوری صوبائی اسمبلی سے حاصل کی جاتی ہے۔
عارف اچکزئی نے مزید کہا: ’اگر کسی کو اضافی تنخواہ یا کسی اور مد میں رقم دی جاتی ہے تو اس کا اختیار وزیراعلیٰ اور کابینہ کو حاصل ہے۔‘
