افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار: روس

روس نے پیر کو کہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

افغانستان کی حکمران طالبان حکومت کے ایک وفد نے آج ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جس میں پاکستان، چین، انڈیا، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے حکام بھی شامل تھے۔

افغانستان کے لیے روسی صدر ولادی میر پوتن کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا کہ ماسکو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

کابلوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’روس اس تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر یا دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، اگر دونوں فریق اس سے کہیں۔‘

بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کے باوجود افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار لڑائی کئی ماہ سے جاری ہے۔ 

پاکستان طویل عرصے سے طالبان حکومت پر سرحد پار حملوں، بالخصوص پاکستانی طالبان یا کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں ملوث عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے کئی صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ افغان جنگجوؤں نے پاکستان میں سرحد پار حملے کیے ہیں۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں افغان شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جان سے گئے۔

آج مذاکرات کے بعد ایک بریفنگ میں انہوں نے کہا ’پاکستان کے تمام حملوں یا بمباری میں اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے کسی ایسے شخص کو مارا جو ان (پاکستان) یا کسی اور کے لیے خطرناک ہو۔‘

ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آج متقی کا ماسکو میں استقبال کرتے ہوئے انہیں ’نیٹو دستے سے افغانستان کی آزادی کی پانچویں سالگرہ‘ پر مبارک باد دی۔

لاوروف نے کہا ’کئی دہائیوں کے قبضے کے اثرات پر قابو پانے کے لیے پانچ سال ایک مختصر عرصہ ہے۔ تاہم آپ کی حکومت کی کامیابیاں واضح ہیں اور ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘ 

انہوں نے داعش اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں طالبان کی کامیابیوں اور منشیات کی سمگلنگ کے خاتمے کی کوششوں کو سراہا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

جولائی 2025 میں روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا، جب اس نے طالبان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔

پیر کو مذاکرات کے دوران لاوروف نے کہا ’امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی طاقتور فوجی مشین کو افغانوں کے جنگی جذبے اور ثابت قدمی نے شکست دی۔‘

لاوروف نے کہا کہ طالبان کی ’منشیات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں بڑی حد تک ہمارے ممالک کے درمیان جاری فوجی و تکنیکی تعاون سے منسلک ہیں۔‘

روس کے اعلیٰ سفارت کار نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ماسکو افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سرزمین پر نیٹو کے کسی بھی فوجی ڈھانچے کی موجودگی کو ’قطعی ناقابل قبول‘ سمجھتا ہے۔

لاوروف نے کہا ’تاریخی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی موجودگی عدم استحکام اور تنازع میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ روس افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتا رہے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *