آخر ہم 80 اور 90 کی دہائی میں بار بار کیوں لوٹ رہے ہیں؟
یہ سوال ایسے میں اور زیادہ گردش کر رہا ہے جب حالیہ دنوں میں بیشتر صارفین نے اپنی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے اس دور میں پہنچنے کی کوشش کی۔
وہی لباس، وہی انداز اور وہی پس منظر، ہر ایک کی سمجھیں دلچسپی بس اسی دور میں رچی بسی رہی۔ سوشل میڈیا کا رخ کریں تو وہاں اس زمانے کے موسیقار، نغمہ نگار، گلوکار، ہدایت کار اور اداکاروں کے پوڈکاسٹ کی بھر مار ملے گی جو یخ بستہ کمروں میں بیٹھ کر ماضی کو یاد کرکے ماحول کو گرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ صرف فلمی شخصیات تک محدود نہیں بلکہ اس زمانے کے صحافی، کھلاڑی، سیاست دان اور پولیس افسران بھی اپنی یادوں کا خزانہ صارفین تک پہنچا رہے ہیں۔ جین زی کی تو ان میں خاص طور پر دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔
کیا واقعی وہ سنہرا اور غیرمعمولی دور تھا؟
یہ دو دہائیاں یعنی 80 اور 90 کی دہائی ایسی کہی جا سکتی ہیں کہ جہاں ٹیکنالوجی کے نت نئے شاہکار وقفے وقفے سے پیش کیے جا رہے تھے۔
وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر، واک مین، کمپیوٹر، سی ڈی، وی سی ڈی، آئی پوڈ جیسی اشیا روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی تھیں تو دوسری جانب ثقافتی میدان میں بھی غیر معمولی کام دیکھنے کو مل رہا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس دور کی پاکستانی اور انڈین ثقافت نے ایسی سنہری یاد بنائی ہے جس سے آج کا انسان سکون محسوس کر رہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دونوں ملکوں میں 80 اور 90 کی دہائی مختلف انداز میں پروان چڑھی۔ پاکستان میں پاپ اور لائٹ میوزک اور ڈراموں نے ناظرین کو اپنی گرفت میں لیا تو وہیں انڈیا میں رومانٹک اور میوزیکل فلموں نے اپنے پرستاروں کی تعداد میں اضافہ کیا۔
پاکستانی ڈراموں وارث، سمندر، افشاں، عروسہ، سونا چاندی، ساحل، تنہائیاں، جنگل، دیواریں سمیت کئی تخلیقات نے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی تو وہیں موسیقی میں عالمگیر، نازیہ حسن، محمد علی شہکی، گلشن آرا سید، افشاں، بینجمن سسٹرز، سجاد علی، تحسین جاوید اور پھر بعد میں سٹرنگز، جنید جمشید، علی حیدر، حسن جہانگیر، سلیم جاوید، جواد احمد، شہزاد رائے، فاخر، ابرارالحق، علی ظفر اور حدیقہ کیانی جیسے گلوکاروں کی دھوم مچی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کئی گلوکاروں نے اپنی دلکش نغمہ سرائی سے انڈین فلمی گیتوں کو ٹف ٹائم دیا۔ سیٹلائٹ چینلز اور پھر کیبل کی آمد کے بعد پاکستانی گلوکاروں اور اداکاروں نے بھی سرحد پار کی۔
اس زمانے میں سرحد کے دونوں جانب ثقافتی میدان میں غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار کیا گیا۔ گو کہ اس دور میں پاکستانی فلمی صنعت اس قدر ترقی کی منزلیں طے نہیں کر پائی لیکن جو بھی تخلیقات بڑے پردے تک پہنچیں انہوں نے فلم بینوں کو مجبور کیا کہ وہ سینیما گھر کا رخ کریں۔
بہرحال اس کمی کو پی ٹی وی کے ڈراموں اور اداکاروں کے کرداروں نے پورا کر دیا۔ کردار ذہنوں پر نقش ہونے لگے۔ اداکاروں کی غیر معمولی کردار نگاری اور ڈراموں کی کہانیوں نے پاکستان ہی نہیں ملک سے باہر بھی ناظرین کو اپنی گرفت میں لیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انڈین فلموں کا اصل مقابلہ پاکستانی ڈراموں سے ہی رہا۔
اس دور میں فلمی یا غیر فلمی پاکستانی اور انڈین گانے صرف سنے نہیں جاتے تھے بلکہ ان کی موسیقی، شاعری اور گلوکاری ایسی ہوتی کہ احساس ہوتا کہ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ یہ گیت اس لیے بھی یادوں میں محفوظ رہ گئے ہیں کہ یہ کسی نہ کسی واقعے سے منسلک رہے۔
یعنی یہ کسی بیاہ پر، کسی سفر پر یا کسی پیار ومحبت سے جڑے رہے اور یہی وجہ ہے کہ آج جب کوئی پرانا گیت سماعت سے گزرتا ہے تو لامحالہ طور پر آپ اس دور میں پہنچ جاتے ہیں اور بھولی بسری یاد پھر سے تروتازہ ہو جاتی ہے۔
یہ بھی عجیب کہانی ہے کہ اس وقت ایک نیا گانا سننے کے لیے ریڈیو سے اس کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح کتاب کی طرح کسی سےآڈیو کیسٹ مانگ کر گانا سننا بھی دلچسپ تجربہ بن جاتا۔ خیر آج ہم ایک روز میں سمارٹ فون اور مختلف ایپلی کیشنز کے باعث اتنے نغمے سن سکتے ہیں کہ جو ممکن ہے اس زمانے میں سال بھر میں نہ سن پاتے۔
انڈیا میں نوے کی دہائی نے جب کروٹ لی تو عمر رسیدہ اور پکی عمر کے فنکاروں کی جگہ کم عمر اداکار آگئے۔ ہر نوجوان کو ان میں اپنی جھلک نظر آئی۔ اس دور میں انڈین تخلیق کاروں نے رومانی کہانیوں کے ساتھ مدھر اور دل کو چھو لینے والی موسیقی پر زیادہ توجہ دی۔
عاشقی، دل، ساجن، قیامت سے قیامت تک، میں نے پیار کیا، دل والے دلہنیا لے جائیں گے یا ہم آپ کے ہیں کون، یہ فلمیں رومانی پس منظر کے ساتھ ساتھ اپنی مسحور کن گیتوں کی وجہ سے ہر ایک کی محبوب بن گئیں۔ کمار سانو، الکا یاگنگ، ادت نرائن، انورادھا پوڈال سمیت کئی سریلے سُر والے گلوکاروں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
پاکستان اور انڈیا میں 80 اور 90 کی دہائی محض موویز اور گیتوں کا زمانہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے برصغیری ثقافتی منظر کا سنہرا وقت تھا جس میں سینیما، ریڈیو، ٹیلی وژن، کیسٹ، شادی بیاہ، محلے، بازار، فیشن اور موسیقی ایک دوسرے سے منسلک تھے۔
ایک فلم سینیما گھر یا وی ایچ ایس پر ہی نہیں رہتی بلکہ اس کے گیت شادی بیاہ میں شامل ہوتے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر ایک کی زندگی کا حصہ بن جاتے۔ اس دور میں بھی مسائل اور مشکلات ضرور تھے لیکن محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی اور ناقابل فراموش تخلیقات پیش ہوئیں۔
صرف فلمیں اور گیت ہی نہیں اس دور کے تو کھیلوں میں بھی بڑی کشش تھی، 1992 میں پاکستان کا عالمی فاتح بننا اور پھر 90 کی دہائی کی پاکستانی ٹیم اور اس کے کھلاڑی تو آج تک سپر ہیروز تسلیم کیے جاتے ہیں۔ صرف کرکٹ ہی نہیں، ہاکی میں بھی پاکستان سرخرو رہا تو وہیں سکواش میں بھی جہانگیر خان اور جان شیر خان کی مثالی جیت نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
آج جین زی میں 80 اور 90 کی دہائی کی تصویریں، فلمی گانے، پرانے پوسٹر اور لباس دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔ حالانکہ جین زی نے وہ زمانہ دیکھا ہی نہیں، لیکن اسے تجسس ہے کہ وہ دور کیسا اور کیا تھا؟
آج بھی گانے اور فلمیں بن رہی ہیں لیکن نجانے کیوں وہ لطف اور کشش ان فلموں اور گانے میں نہیں رہی جو کبھی ان کا خاصہ ہوتی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جین زی اس ہنگامہ خیزی کے دور میں کسی نہ کسی طرح اپنا تعلق اس زمانے سے جوڑ کر خود کو پرسکون اور فرحت کا احساس دلا رہی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
