چار اکتوبر کا لانگ مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی آج پھر مذاکرات کی میز پر

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت دیگر معاملات سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور آج  ہوگا۔

اجلاس کا پہلا دور جمعے کو ہوا، تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے حق میں چار اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان رکھا ہے، جس کے پیش نظر اسلام آباد کے داخلی وخارجی راستوں کے قریب اور مختلف مقامات پر سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں کنٹینرز موجود ہیں۔

ایک طرف اعلان کردہ مارچ کے آغاز میں صرف ایک دن رہ گیا ہے، وہیں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعے کو ان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی وفد میں شامل سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور ہفتے کو دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر چیمبر میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا: ’اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا تھا کہ ’اچھے ماحول میں‘ بات چیت ہوئی ہے اور ہفتے کو ’دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔‘

ان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام شریک تھے جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کر رہے تھے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ ان مذاکرات میں شریک ہوئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *