دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے اور مسلسل سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر حکومتی مشاورت نے پاکستان میں شدت پسندی کے تسلسل پر ایک بار پھر بحث چھڑ دی ہے۔
لوگ اب بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ متعدد بڑے آپریشنز، افغانستان سے امریکی انخلا اور دہشت گردانہ نیٹ ورکس کو بارہا اکھاڑ پھینکنے کے دعوؤں کے باوجود پاکستان میں عسکریت پسندی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا۔
دہشت گردانہ نیٹ ورکس اپنی پناہ گاہوں سے بےدخل کیے جانے کے بعد کس طرح اور کیوں دوبارہ منظم ہو جاتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات نہ صرف انسدادِ دہشت گردی کے پیچیدہ اور ہمہ جہت چیلنج کا تناظر واضح کرتے ہیں، بلکہ موجودہ پالیسی فریم ورک میں موجود نقائص کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
پچھلے 25 برسوں کے دوران پاکستان نے دہشت گرد نیٹ ورکس کا مقابلہ کرتے ہوئے جان و مال کی بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی برقرار ہیں، لیکن پاکستان نے عسکریت پسندی کے خلاف ان گنت کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔
مثال کے طور پر 2015 اور 2020 کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی میں حکومت کی رِٹ مکمل طور پر بحال ہو چکی تھی۔
افغانستان میں طالبان کی فتح اور امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان کی جانب سے فراہم پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ مالی اور لاجسٹک مدد کے باعث پاکستان میں دہشت گردی دوبارہ ابھر آئی۔ نتیجتاً گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔
دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے طالبان کی حمایت کے علاوہ، خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر افسوس ناک سیاست نے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر عمل درآمد میں ایسے خلا پیدا کیے ہیں، جن کا فائدہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس نے اٹھایا ہے۔
پالیسی کے نقطہ نظر سے، انسدادِ دہشت گردی میں کامیابی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی انتہائی اہم ہے۔
پاکستان کا عسکری کارروائیوں پر حد سے زیادہ انحصار اور انسدادِ دہشت گردی کے غیر عسکری پہلوؤں پر معقول طریقے سے عمل درآمد میں درپیش مشکلات نے بھی دہشت گردی کے تسلسل میں برابر کا کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے نئے ضم شدہ اضلاع (این ایم ڈیز)، بلوچستان اور کراچی سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی سے تباہ کیا اور ریاست کی رِٹ بحال کی، تاہم غیر عسکری اقدامات کی عدم موجودگی نے ان مشکل سے حاصل کردہ کامیابیوں کو متاثر کیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی پائیدار کامیابیوں کے لیے عسکری اور غیر عسکری اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان میں انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنا، اعتدال پسندی کو فروغ دینا، تعلیمی اصلاحات طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانا اور سماجی ہم آہنگی و استحکام کو یقینی بنانا جیسے امور شامل ہیں۔
اگر فوجی آپریشنز کے بعد غیر عسکری اقدامات نہ کیے جائیں تو حاصل ہونے والی کامیابیاں بتدریج کمزور پڑ جاتی ہیں۔ نظریاتی طور پر، عسکری طاقت کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ سیاسی عمل کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور ایک ایسا سازگار ماحول بنایا جا سکے جس میں ریاست اپنا کنٹرول مضبوط کر سکے۔
پاکستان میں شدت پسندی کے تسلسل کی ایک اور وجہ اس کی مشکل سرحدیں، مہلک ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور وہ سماجی و اقتصادی دراڑیں ہیں جن کا فائدہ دہشت گرد نیٹ ورکس اٹھاتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے مشکل ترین اور معاندانہ پڑوس میں گھرا ہوا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر انڈیا کی مسلسل دشمنانہ پالیسی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی خفیہ پشت پناہی نے پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے بے شمار چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مغرب میں، افغانستان میں طالبان کے اقتدار اور ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے لیے ان کی حمایت نے پاکستان کو دہشت گردی سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بنا دیا ہے۔ پھر مشرق وسطیٰ میں امریکہ و اسرائیل کے ایران کے ساتھ تصادم نے بھی پاکستان کے پیچیدہ سکیورٹی ماحول میں برابر کا حصہ ڈالا ہے۔ ایران میں عدم استحکام نے دہشت گردی کی نمو کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے، بالخصوص کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کے لیے۔
مزید برآں، افغانستان میں امریکہ کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی نے بھی دہشت گرد گروہوں کی ہلاکت خیزی کو بڑھا دیا ہے۔ایم 4 کاربائنز اورایم 16 رائفلز جیسے ہتھیاروں، نائٹ ویژن سکوپس اور محفوظ مواصلات کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹ فونز نے پاکستان میں عسکریت پسندی کا رخ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام دہشت گرد نیٹ ورکس ان ہتھیاروں اور مواصلاتی آلات کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، جاسوسی اور حملوں کے لیے عام دستیاب کواڈ کاپٹرز میں ترمیم کرنے کی ان دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیت نے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں حکمتِ عملی کی پیچیدگی کی ایک نئی تہہ کا اضافہ کر دیا ہے۔
ٹی ٹی پی، آئی ایم پی اور بی ایل اے حملے کرنے اور جاسوسی کے لیے عام تجارتی کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس پہلو نے پاکستانی سکیورٹی اداروں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں اینٹی ڈرون سسٹمز خریدنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
دہشت گرد گروہوں کے درمیان سٹریٹجک اور حربی اتحادات کے ساتھ ساتھ ان کی باہمی رقابتوں نے بھی پاکستان میں شدت پسندی کے دوام میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ گروہ جتنے زیادہ متحد ہوتے ہیں، وہ اتنے ہی زیادہ مہلک بن جاتے ہیں اور اتنی ہی طویل ان کی بقا ہوتی ہے۔
طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے سو سے زائد عسکریت پسند دھڑوں کو اپنی صفوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے، مختلف نظریاتی سوچ کے باوجود، بلوچستان میں پاکستانی ریاست کے خلاف ایک دوسرے کو برداشت کیا ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے درمیان علاقوں کے کنٹرول کی جنگ اور زیادہ سے زیادہ تشدد دکھانے کے مقابلے نے بھی شدت پسندی کے تسلسل میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ایک مسابقتی ماحول میں، عسکریت پسند گروہ بڑے حملے کر کے اور چھوٹے دھڑوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
طرزِ حکمرانی کا فقدان وہ واحد عنصر ہے جو ان نیٹ ورکس کو متاثر پذیر اور کمزور افراد کو ورغلا کر اپنی صفوں میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح طرزِ حکمرانی وہ مضبوط جوڑ ہے جو ریاست اور معاشرے کو باہم یکجا رکھتا ہے۔ جب یہ مفقود ہو جاتا ہے، تو عسکریت پسند گروہ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو بڑی احتیاط سے مستحکم کر لیتے ہیں۔
طرزِ حکمرانی میں بہتری لانا، ریاست اور معاشرے کے تعلق کو مضبوط کرنا اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف سماجی استقامت پر توجہ مرکوز کرنا، قوموں کو انتہا پسندانہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں پیچھے دھکیلنے کے قابل بناتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی موجودہ جنگ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔ راتوں رات کامیابی یا فتح کا ملنا بعید از قیاس ہے۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور سکیورٹی اداروں کو امن کی بحالی کے لیے کچھ وقت لگے گا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے معاشرے کو برداشت کرنا ہو گا اور ریاست کا مکمل ساتھ دینا ہو گا، جس کے بغیر دہشت گردی کے خلاف کامیابی ممکن نہیں ہے۔ جہاں ریاستیں دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں، وہیں معاشرے انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کر کے ان پر فتح حاصل کرتے ہیں۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

