صومالیہ سے بازیاب پاکستانی کل پاکستان پہنچیں گے: اسحاق ڈار

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو کہا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک ہونے والے جہاز ’ایم وی آنر 25‘ کے چار پاکستانی عملے کے ارکان کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے، جو کل یعنی تین اکتوبر کو کراچی پہنچیں گے۔

وزارت خارجہ کے مطابق بازیاب ہونے والوں میں یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی شامل ہیں۔

جہاز کے تین پاکستانی عملے کے ارکان رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری اس واقعے میں جان سے گئے، جن کی میتیں پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تمام ضروری قانونی اور دیگر کارروائیوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے جان سے جانے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق جہاز کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین، کپتان کے ہمراہ اب بھی جہاز پر موجود ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ان افراد کی بحفاظت بازیابی اور جلد از جلد پاکستان واپسی کے لیے دوست ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔

وزارت خارجہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاملے پر مسلسل کام کر رہی ہے اور تمام پاکستانی شہریوں کی واپسی، بشمول جاں بحق افراد کی میتوں کی جلد منتقلی، کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔ متاثرہ خاندانوں کو بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں صومالیہ میں پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے بتایا تھا کہ سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو کامیابی سے بازیاب کروا لیا گیا ہے تاہم اس دوران قزاقوں نے پاکستانیوں سمیت پانچ افراد کو قتل کر دیا۔

پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے ایم ٹی آنر 25 نامی بحری جہاز قبضے میں لے لیا ہے، جو پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب موجود تھا۔

بحری جہاز کے زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا پہنچا دیا گیا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کے مطابق زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی، مرنے والوں کی لاشوں کی پاکستان منتقلی اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پلاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لیا گیا تھا۔

اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی سیلرز بھی شامل تھے۔

ان کے اہل خانہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کی اپیلیں کر رہے تھے۔

پنٹ لینڈ صومالیہ کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جہاں میری ٹائم پولیس نے قزاقوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

رواں سال صومالیہ اور خلیج عدن کے اطراف قزاقوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ خطے میں 90 سے زیادہ ملاح قید ہیں اور خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض کو مناسب خوراک، پانی اور طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *